اے آر رحمان پر آسکر یافتہ گانے ’جے ہو‘ کا کریڈٹ چھیننے کا الزام ، حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
آسکر ایوارڈ یافتہ گانے ’جے ہو‘ کی تخلیق سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث کے دوران معروف فلم ساز رام گوپال ورما نے اپنے ایک پرانے بیان پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں غلط حوالوں سے پیش کیا گیا۔ انہوں نے اے آر رحمان کو نہ صرف دنیا کے عظیم ترین موسیقاروں میں شمار کیا بلکہ اس تاثر کو بھی سختی سے رد کیا کہ رحمان نے کبھی کسی اور کے کام کا کریڈٹ لیا ہو۔
رام گوپال ورما نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ جے ہو گانے کے معاملے میں مجھے غلط طور پر کوٹ کیا جا رہا ہے۔ میری نظر میں اے آر رحمان دنیا کے عظیم ترین موسیقار اور ایک نہایت شائستہ انسان ہیں۔ وہ آخری شخص ہیں جو کسی اور کا کریڈٹ لے سکتے ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس وضاحت کے بعد اس معاملے پر پھیلنے والی منفی فضا ختم ہو جائے گی۔
To all concerned .
— Ram Gopal Varma (@RGVzoomin) January 21, 2026
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اے آر رحمان نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران ہندی فلم انڈسٹری میں ان کے کام میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ انہوں نے انڈسٹری میں طاقت کے توازن میں تبدیلی اور فرقہ وارانہ سیاست کو قرار دیا۔ اسی پس منظر میں رام گوپال ورما کا ایک پرانا انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
پرانے انٹرویو میں رام گوپال ورما نے دعویٰ کیا تھا کہ اے آر رحمان نے سلم ڈاگ ملینیئر کے لیے گانا جے ہو کمپوز نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ گانا سکھویندر سنگھ نے کمپوز کیا تھا اور بعد میں رحمان کی جانب سے انہیں 5 لاکھ روپے دیے گئے۔ مورما نے دعویٰ کیا کہ رحمان نے سکھویندر سنگھ سے اس گانے کا کریڈٹ چھین لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’خود کشی کے خیال آتے تھے‘ طلاق کے بعد اے آر رحمان پہلی بار منظرِ عام پر
انہوں نے کہا کہ رحمان سبھاش گھئی کی فلم یوراج کر رہے تھے۔ رحمان تاخیر کے لیے بدنام ہیں۔ سبھاش گھئی نے رحمان کو میسج کیا کہ ’میرے پاس سلمان خان اور کترینہ کیف کی تاریخیں ہیں، سیٹ تیار ہے، اگر تم گانے نہیں دو گے تو کیا ہوگا؟‘ انہوں نے رحمان کو ایک سخت ای میل بھیجی جو اس وقت لندن میں تھے۔ اس کے بعد رحمان نے فون کیا اور کہا ’میں بمبئی آ رہا ہوں، سکھویندر سنگھ کے اسٹوڈیو آجاؤ، میں وہاں تمہارا گانا گاؤں گا‘۔
ورما نے مزید کہا کہ دو دن بعد سبھاش گھئی سکھویندر کے اسٹوڈیو پہنچے۔ رحمان اس وقت آندھرا میں ایئرپورٹ پر تھے۔ سکھویندر بیٹھا کچھ کر رہا تھا۔ رحمان نے اس سے کہا کہ گانا سناؤ۔ سبھاش گھئی کو غصہ آیا۔ انہیں لگا کہ بلا وجہ گانا گلوایا جا رہا ہے۔ پھر رحمان نے سبھاش گھئی کے سامنے ہی سکھویندر سے پوچھا، ’کیا تم نے یہ کمپوز کیا ہے؟‘ سکھویندر نے کہا ہاں، گانا سنایا، اور رحمان نے پوچھا کہ سبھاش کو پسند آیا یا نہیں۔
JaiHo: Subhash Ghai asked ARR to make a tune for his film "Yuvraaj" it was very much delayed and ARR made Sukhwinder to make a tune and give it to Subhash Ghai which was rejected by him due to bad tune
Later same song was used by ARR for film Slumdog Millionaire And Sukhwinder… https://t.co/yRVsuHawH6 pic.twitter.com/crnfe3ZPSZ
— Farzana Ali Mazari ???????? (@farzlicioustahe) January 20, 2026
سبھاش گھئی غصے میں آ گئے اور چیخنے لگے، ’میں تمہیں 3 کروڑ دے رہا ہوں، اگر سکھویندر یہ کر سکتا ہے تو مجھے تمہاری کیا ضرورت ہے؟‘ ورما کے مطابق رحمان نے جواب دیا اپنی زبان پر قابو رکھو۔ تم میرے کام کے نہیں، میرے نام کے پیسے دے رہے ہو۔ یہ مت بھولو۔ تمہیں پتہ ہے میں اہم حصے کہاں سے لیتا ہوں؟ میرا ڈرائیور بھی کر سکتا ہے، میرا مالی بھی کر سکتا ہے، میں کہیں سے بھی خرید سکتا ہوں۔ میں تمہیں اپنا نام دے رہا ہوں‘۔
رحمان نے مزید کہا کہ تم مجھے اس لیے پیسے دے رہے ہو کہ کریڈٹ آئے، میوزک بائے اے آر رحمان۔ پوائنٹ نمبر دو: بتاؤ پسند آیا یا نہیں، اگر نہیں آیا تو دوسرا بنا دوں گا۔ ورما نے دعویٰ کیا کہ رحمان یہ کہہ کر چنئی واپس چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اے آر رحمان میرے والد کی طرح ہیں‘ تعلقات کی خبروں پر موہنی ڈے پھٹ پڑیں
سکھویندر نے مجھے بتایا کہ بعد میں رحمان نے فون کر کے کہا کہ گانا مکمل کرو اور ای میل کر دو۔ بس اتنا ہی ہوا۔ پھر ایک سال بعد رحمان کے مینیجر نے سکھویندر کو 5 لاکھ روپے کا چیک بھیجا۔ جب سکھویندر نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ ‘تم نے رحمان کے لیے گانا بنایا تھا اور رحمان نے اسے کسی پارٹی کو بیچا، یہ 5 لاکھ تمہارا حصہ ہے۔ وہ پارٹی کون تھی؟ سلم ڈاگ ملینیئر۔ اور وہ گانا تھا جے ہو۔
تاہم بعد میں سکھویندر سنگھ نے رام گوپال ورما کے بیان سے اتفاق نہیں کیا۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے صرف گایا ہے۔ رام گوپال ورما جی کوئی چھوٹی ہستی نہیں ہیں شاید انہیں کچھ غلط معلومات ملی ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آر رحمان اے آر رحمان گانے رام گوپال ورما ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ر رحمان اے ا ر رحمان گانے رام گوپال ورما ویڈیو وائرل رام گوپال ورما اے ا ر رحمان اے آر رحمان سبھاش گھئی کا کریڈٹ کہ رحمان انہوں نے کے لیے کیا کہ کہا کہ
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔