چینی امداد سے شمالی بنگلہ دیش میں بڑا طبی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نے چین کے تعاون سے ایک بڑے صحت کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت بھارت سے متصل سرحد کے قریب ایک ہزار بستروں پر مشتمل جنرل اسپتال تعمیر کیا جائے گا۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی سرحد سے متصل ضلع نیلپھاماری میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل بنگلہ دیش چین فرینڈشپ جنرل اسپتال تعمیر کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک کے شمالی خطے کو ایک اہم طبی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
یہ منصوبہ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنیک) کے اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کی صدارت چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کی۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت ہیلتھ سروسز ڈویژن کی جانب سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
منصوبے پر جنوری 2026 سے دسمبر 2029 تک کام کیا جائے گا۔ اس کی مجموعی لاگت 2,459.
مزید پڑھیں:
جن میں سے 179.27 کروڑ ٹکہ بنگلہ دیشی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی زیادہ تر رقم چین کی گرانٹ امداد سے آئے گی۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب پروفیسر محمد یونس نے گزشتہ سال مارچ میں چین کے دورے کے دوران صدر شی جن پنگ سے بنگلہ دیش میں ایک جدید اسپتال کے قیام کی درخواست کی، جس پر بیجنگ نے فوری طور پر تعاون کا اعلان کیا۔
منصوبے کے تحت نیلپھاماری صدر اپازلا میں 10 منزلہ جدید اسپتال کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:
اس کے ساتھ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کے لیے ہاسٹلز اور رہائشی سہولیات، ڈائریکٹر کی رہائش، معاون انفراسٹرکچر اور جدید ترین طبی آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔
یہ اسپتال عمومی اور خصوصی طبی سہولیات فراہم کرے گا، جن میں گردوں، دل، کینسر اور اعصابی امراض کا علاج شامل ہے۔
اسپتال میں جدید ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، آئی سی یو، سی سی یو اور ایچ ڈی یو یونٹس، جدید تشخیصی سہولیات اور مکمل طور پر لیس آپریشن تھیٹرز قائم کیے جائیں گے تاکہ پیچیدہ اور طویل المدتی بیماریوں کا علاج ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں:
ایکنیک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ یہ منصوبہ محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے صحت کے نظام میں بہتری کے لیے ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اسپتال کے قیام سے شمالی علاقوں کے عوام کو اپنے گھروں کے قریب جدید علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
انہوں نے صحت کی سہولیات کو مرکزیت سے نکال کر مختلف علاقوں میں پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ رنگپور اور ڈھاکا کے بڑے اسپتالوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:
ان کے مطابق نیلپھاماری کا یہ اسپتال اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
چیف ایڈوائزر نے مزید کہا کہ اسپتال کے فعال ہونے کے بعد نیپال اور بھوٹان جیسے ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کے مریض بھی یہاں علاج کے لیے آ سکتے ہیں، جس سے بنگلہ دیش ایک علاقائی طبی مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
اس منصوبے سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔
مزید پڑھیں:
حکام کے مطابق ریونیو بجٹ کے تحت تقریباً 893 ڈاکٹرز، 1,197 نرسیں اور 1,410 دیگر عملہ بھرتی کیا جائے گا، جس سے مقامی معیشت اور صحت کے شعبے کو تقویت ملے گی۔
نیلپھاماری ضلع کی آبادی تقریباً 21 لاکھ ہے، جو زیادہ تر دیہی اور نیم شہری علاقوں پر مشتمل ہے۔
صحت کے حکام کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے معیار کے تحت اس ضلع کو 4,500 سے 6,000 اسپتال بستروں کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ سہولیات اس ضرورت سے کہیں کم ہیں۔
مزید پڑھیں:
فی الحال ضلع میں صحت کی سہولیات کا انحصار 250 بستروں پر مشتمل نیلپھاماری جنرل اسپتال اور اپازلا سطح کے بنیادی مراکز صحت پر ہے، جہاں آئی سی یو، ڈائیلیسس، کینسر، دل کے امراض اور دیگر خصوصی سہولیات ناکافی ہیں۔
اس وجہ سے شدید بیمار مریضوں کو اکثر رنگ پور یا ڈھاکہ بھئجنا پڑتا ہے، جس سے اخراجات، سفر کا وقت اور خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن تھیٹر امراض ایمرجنسی بنگلہ دیش پروفیسر محمد یونس جنرل اسپتال چیف ایڈوائزر چین ڈائیلیسس ڈھاکہ رنگ پور ریونیو فرینڈشپ کینسر نیلپھاماری ہیلتھ سروسز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن تھیٹر ایمرجنسی بنگلہ دیش پروفیسر محمد یونس جنرل اسپتال چیف ایڈوائزر چین ڈائیلیسس ڈھاکہ رنگ پور ریونیو کینسر ہیلتھ سروسز پروفیسر محمد یونس حکام کے مطابق جنرل اسپتال کیا جائے گا مزید پڑھیں بنگلہ دیش یہ منصوبہ کے لیے صحت کے کے تحت
پڑھیں:
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
فائل فوٹو۔ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔
بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔
والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔