برطانوی براڈ کاسٹر اور صحافی سر مارک ٹلی انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
برطانوی براڈ کاسٹر اور صحافی سر مارک ٹلی (Sir Mark Tully) نوے برس کی عمر میں انتقال کرگئے، وہ برطانوی نشریاتی ادارے کے ’وائس آف انڈیا‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔
مارک ٹلی کو بھارت سے متعلق خبروں کا معتبر ترین رپورٹر اور تبصرہ نگار سمجھا جاتا تھا، وہ 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے کے عینی شاہد تھے۔
انتہا پسند ہندوؤں کی جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد انہیں کئی گھنٹے ایک کمرے میں گزارنے پڑے۔
مارک ٹلی نے بابری مسجد کی شہادت کو برطانیہ سے آزادی کے بعد سیکولرازم کو ’سب سے بڑا دھچکا‘ قرار دیا تھا۔
انہوں نے بھارت میں قحط، فسادات، قتل و غارت، بھوپال گیس سانحہ اور سکھوں کے گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے جیسے اہم واقعات رپورٹ کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مارک ٹلی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :