سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق حتمی اصول طے کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق حتمی اصول طے کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم اور اصولی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث ازخود جائیداد کے مالک بن جاتے ہیں اور اس کے لیے نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ متوفی مالک کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی تصور نہیں کیا جا سکتا، جبکہ قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہ کرنا جان بوجھ کر ڈیفالٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے کرایہ داروں کی بے دخلی کے فیصلے کو درست قرار دے دیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کر کے ساٹھ دن کے اندر مالکان کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اصل مالک کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نے قانونی نوٹس کے ذریعے کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، تاہم کرایہ داروں نے اس کے باوجود قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف بھی کیا، لیکن نوٹس کے باوجود کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کراتے رہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کے خلاف بے دخلی کی درخواست دائر کی، جبکہ کرایہ داروں کا مؤقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانوناً ادائیگی نہیں ہوتا اور قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے۔ ایسے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی؛ انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی؛ انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پیر کی شام سے منگل کی شام تک مری میں برفباری کی پیشن گوئی ، رات کی برفباری اور بلیک آئس سے بچاؤ کے... ازبکستان اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کا نئے سرے سے آغاز نئی دہلی میں قاتل حسینہ کو خطاب کی اجازت دینابنگلادیشی عوام کی توہین ہے، بنگلادیشی وزارت خارجہ بدقسمتی سے چچا آصف زرداری اور نواز شریف کی پارٹیز بھی ہائبرڈ ہو گئیں ، ایمل ولی خان بھارت کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، برطانوی میڈیا کی رپورٹ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے نے کرایہ
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن