سہیل سلطان نااہلی کیس: وفاقی آئینی عدالت کا الیکشن کمیشن کو تاحکمِ ثانی کارروائی سے روکنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سہیل سلطان نااہلی کیس: وفاقی آئینی عدالت کا الیکشن کمیشن کو تاحکمِ ثانی کارروائی سے روکنے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 26 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے سوات سے رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کے خلاف نااہلی کے معاملے میں اہم حکم جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تاحکمِ ثانی کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا ہے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں۔
کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران سہیل سلطان کی جانب سے بیرسٹر گوہر وفاقی آئینی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انتخابات مکمل ہونے کے بعد آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ دائر کی جا سکتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو اس معاملے میں ریفرنس بھیجنے کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کیس میں بھی سپریم کورٹ اس اصول کو طے کر چکی ہے، جس کے مطابق ایسے ریفرنسز کی آئینی حیثیت واضح ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا عندیہ دیا۔
واضح رہے کہ سہیل سلطان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ بننے کے بعد قانون کے تحت لازم دو سالہ پابندی کی مدت پوری نہیں کی، جس پر ان کے خلاف نااہلی کا معاملہ زیرِ غور لایا گیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق حتمی اصول طے کر دیا سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق حتمی اصول طے کر دیا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی؛ انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پیر کی شام سے منگل کی شام تک مری میں برفباری کی پیشن گوئی ، رات کی برفباری اور بلیک آئس سے بچاؤ کے... ازبکستان اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کا نئے سرے سے آغاز نئی دہلی میں قاتل حسینہ کو خطاب کی اجازت دینابنگلادیشی عوام کی توہین ہے، بنگلادیشی وزارت خارجہ بدقسمتی سے چچا آصف زرداری اور نواز شریف کی پارٹیز بھی ہائبرڈ ہو گئیں ، ایمل ولی خان
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت الیکشن کمیشن سہیل سلطان
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔