نریندر مودی کا بھارت: 75 سالہ بزرگ کو بیوی کے علاج کے لیے 300 کلومیٹر رکشہ چلانا پڑا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بھارت میں صحت کے ناقص نظام اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کی ایک اور دل دہلا دینے والی مثال ریاست اڈیشا میں سامنے آئی ہے، جہاں ایک 75 سالہ بزرگ کو اپنی فالج زدہ بیوی کے علاج کے لیے 300 کلومیٹر طویل سفر سائیکل رکشہ پر طے کرنا پڑا۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے والا بھارت آج بھی اپنے عام شہری کو بنیادی طبی سہولت فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
دیہی علاقوں میں علاج ناپیداڈیشا کے ضلع سمبل پور کے علاقے موڈی پاڑہ کے رہائشی بابو لوہار کی 70 سالہ بیوی جیوتی کو فالج کا دورہ پڑا، مگر مقامی اسپتال اور ڈاکٹر اس کے علاج سے قاصر رہے۔ انہیں بتایا گیا کہ بہتر علاج صرف کٹک کے ایس سی بی میڈیکل کالج و اسپتال میں ممکن ہے، جو سینکڑوں کلومیٹر دور واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں مسیحی پادری کو زبردستی گوبر کھلانے کا واقعہ، ملزموں کی گرفتاری تاحال نہ ہوسکی
یہ صورتحال دیہی بھارت میں صحت کے ڈھانچے کی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔
ایمبولینس خواب بن گئیعلاج کے لیے فوری اور محفوظ سفر ہر مریض کا بنیادی حق ہوتا ہے، مگر غربت اور ریاستی بے حسی کے باعث بابو لوہار نجی ایمبولینس کا خرچ برداشت نہ کر سکے، جبکہ سرکاری سطح پر کوئی متبادل سہولت دستیاب نہ تھی۔ مجبوراً انہوں نے اپنی پرانی سائیکل رکشہ کو ہی عارضی ایمبولینس بنا لیا۔
9 دن کا غیر انسانی سفرعمر، تھکن اور بیماری کے باوجود بابو لوہار نے دن رات رکشہ چلا کر 9 دن میں یہ سفر مکمل کیا۔ نہ راستے میں مناسب قیام گاہیں تھیں، نہ مریض کے لیے طبی نگرانی، اور نہ ہی ریاستی اداروں کی کوئی مدد۔
یہ سفر بھارت میں مریضوں کو درپیش مشکلات کی ایک زندہ تصویر بن کر سامنے آیا ہے۔
واپسی میں حادثہ، نظام کی مزید ناکامی2 ماہ کے علاج کے بعد جب بزرگ جوڑا واپس روانہ ہوا تو چودوار کے قریب ایک گاڑی نے ان کے رکشہ کو ٹکر مار دی، جس سے خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔
یہ حادثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ صرف صحت بلکہ سفر کا بنیادی تحفظ بھی عام شہریوں کو میسر نہیں۔
یہ بھی پڑھیے انڈیا میں ایک ارب لوگوں کے پاس اشیائے ضروریہ خریدنے کے پیسے نہیں، رپورٹ میں انکشاف
حادثے کے بعد قریبی ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹر وکاس نے نہ صرف دونوں کا علاج کیا بلکہ اپنی جیب سے مالی مدد بھی فراہم کی۔ یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت میں اکثر افراد کو ریاستی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ایک کہانی، ہزاروں سوالاتبابو لوہار کا کہنا تھا ’ہمارے پاس ایک دوسرے کے سوا کچھ نہیں۔‘
یہ جملہ بھارت کے ان لاکھوں شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے جو غربت، بیماری اور ریاستی غفلت کے درمیان زندگیاں گزار رہے ہیں۔
یہ واقعہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر ایک ملک اپنے شہریوں کو بروقت علاج، محفوظ سفر اور بنیادی سہولتیں فراہم نہ کر سکے تو ترقی کے دعوے کس حد تک درست ہیں؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا کا شعبہ صحت بھارت میں غربت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا کا شعبہ صحت بھارت میں غربت بابو لوہار بھارت میں کے علاج علاج کے کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔
مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔
اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔
ترجمان کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔
ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔