کراچی: گارڈن میں کارروائی، 2 بھتہ خور ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
کراچی کے علاقے گارڈن میں کارروائی کرتے ہوئے اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ اور سندھ رینجرز نے دو بھتہ خوروں کو ہلاک کر دیا۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق ہلاک ملزمان کی شناخت حسن عرف بیلچہ اور تنویر عرف تیتر کے نام سے ہوئی، ہلاک ملزمان کا تعلق بھتہ مافیا کے سرغنہ جمیل چھانگا اور زاہد لاڈلہ گروپ سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان سولجر بازار اور جمشید ٹاؤن میں بھتہ خوری میں ملوث تھے، ملزمان کاروباری مراکز، دکانداروں، بلڈرز اور ریسٹورینٹس سے بھتہ لیتے تھے۔
کراچیپاکستان رینجرز نے گودھرا اور سیکٹر 11جی سے.
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان بھتہ نہ دینے پر فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلانے میں ملوث رہے، ملزمان اسٹریٹ کرائم کی 300 سے زائد وارداتوں میں بھی ملوث تھے۔
ترجمان سندھ رینجرز نے یہ بھی کہا کہ ہلاک ملزمان عادی مجرم تھے، متعدد بار جیل جا چکے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔