Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:10:39 GMT

ناسا کے مطابق حقیقی سائنس پر مبنی فلمیں کون سی ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

ناسا کے مطابق حقیقی سائنس پر مبنی فلمیں کون سی ہیں؟

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک فہرست جاری کی ہے جس میں وہ سائنس فکشن فلمیں شامل ہیں جو سائنسی لحاظ سے سب سے زیادہ درست اور حقیقت کے قریب ہیں۔

ان فلموں میں نہ صرف تخیل ہے بلکہ سائنس، تحقیق اور حقیقت پسندانہ سوچ کو بھی دکھایا گیا ہے۔ یہ فہرست سینما کی تقریباً ایک صدی پر محیط فلموں کے تجزیے کے بعد تیار کی گئی ہے۔

ناسا کے مطابق، سائنسی درستگی کا مطلب یہ نہیں کہ فلمیں مستقبل کی ہر بات بالکل صحیح بتائیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ سائنسدان کس طرح مسائل حل کرتے ہیں، تجربے کرتے ہیں اور تحقیق کرتے ہیں۔

Gattaca (1997)

یہ فلم ایک ایسے مستقبل کی کہانی ہے جہاں لوگ صرف اپنے ڈی این اے کی بنیاد پر پرکھے جاتے ہیں۔ اچھے جینیات والے لوگوں کو موقع ملتا ہے اور باقی لوگوں کو محدود کام کرنے پڑتے ہیں۔ مرکزی کردار خلا میں جانے کے اپنے خواب کے لیے اپنی شناخت بدل دیتا ہے اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک قتل کے معمہ کو حل کرتا ہے

اگرچہ یہ ٹیکنالوجی فرضی ہے لیکن ناسا نے اس فلم کو سراہا کیونکہ یہ جینیاتی امتیاز اور انسانی صلاحیتوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں دکھاتی ہے۔

Contact (1997)

یہ فلم ایک خاتون فلکیات کی ماہر کی کہانی بیان کرتی ہے جو خلا سے موصول ہونے والا ایک پراسرار سگنل دریافت کرتی ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سائنسدان اس سگنل کی تشریح کے لیے تحقیق کرتے ہیں، شواہد جمع کرتے ہیں اور سائنسی تجزیہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ فلم خلائی زندگی کی تلاش، سائنسی شبہات، اور بڑے خلائی منصوبوں کے لیے درکار سیاسی اور مالی چیلنجز کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔

ناسا کے مطابق یہ فلم دکھاتی ہے کہ خلائی تحقیق میں سوال کرنا، شواہد جمع کرنا اور سائنسی تجزیہ کرنا کتنا اہم ہے۔

Metropolis (1927)

یہ ایک پرانی جرمن فکشن فلم ہے جو مستقبل کے ایک شہر کی کہانی دکھاتی ہے۔ جہاں معاشرہ سخت طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ایک طرف شاندار زندگی گزارنے والے امیر طبقے کے لوگ ہیں اور دوسری طرف سخت محنت کرنے والے کمزور مزدور طبقے کے لوگ۔

ناسا نے اس فلم کو سراہا کیونکہ یہ انسانی محنت کو مشینوں کے ذریعے بدلنے کے اثرات اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کو حقیقت کے قریب دکھاتی ہے۔

The Day the Earth Stood Still (1951)

یہ فلم ایک خلائی مخلوق کی کہانی ہے جو زمین پر اترتی ہے، ساتھ میں ایک روبوٹ گورٹ بھی ہوتا ہے۔ یہ مخلوق انسانیت کو خبردار کرتی ہے کہ تشدد اور ہتھیار چھوڑ دو، ورنہ نتائج خطرناک ہوں گے۔

ناسا کے مطابق یہ فلم دکھاتی ہے کہ خلائی مخلوق کو حملہ آور نہیں بلکہ عقل مند اور منطقی سمجھا جا سکتا ہے۔

Woman in the Moon (1929)

یہ فلم بھی جرمن سائنس فکشن کی کلاسک مثال ہے، جو نہ صرف ایک رومانوی کہانی پیش کرتی ہے بلکہ سائنسی موضوعات جیسے صفر کشش ثقل، راکٹ کی تیاری، اور مشن سے قبل کی الٹی گنتی کو بھی دکھاتی ہے۔

فلم ’وومن ان دی مون‘ 1969 میں انسان کے چاند پر اترنے سے تقریباً پچاس سال پہلے بنائی گئی تھی، جو اس کے سائنسی وژن کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس خاموش فلم میں دکھایا گیا ہے کہ چاند پر جانے کے ابتدائی تجربات کیسے کیے جا سکتے ہیں اور اس میں خلائی سفر کی بنیادی مشکلات جیسے کشش ثقل کی کمی کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ناسا نے اس فلم کو سراہا کیونکہ یہ خلائی سفر کے ابتدائی سائنسی تصورات کو آسان انداز میں دکھاتی ہے۔

The Thing from Another World (1951)

یہ فلم شمالی قطب کے ایک دور افتادہ اڈے پر سائنسدانوں اور فضائیہ کے اہلکاروں کی کہانی دکھاتی ہے ، جبن کا سامنا ایک خطرناک پودوں نما خلائی مخلوق سے ہوتا ہے۔

ناسا کے مطابق فلم میں مسائل کے حل کے لیے جادو یا فرضی چیزوں کے بجائے سائنسی سوچ اور تجربات استعمال کیے گئے۔

Jurassic Park (1993)

فلم ’جراسک پارک‘ (1993) ایک تھیم پارک کی کہانی بیان کرتی ہے جس میں کلون کیے گئے ڈایناسورز ایک سکیورٹی خرابی کے بعد قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ڈایناسورز کو ڈی این اے کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کا خیال افسانوی ہے، ناسا نے فلم میں جینیات، ڈی این اے کی وضاحت کو سائنسی اعتبار سے متاثر کن قرار دیا ہے۔ فلم یہ بھی دکھاتی ہے کہ کس طرح چھوٹی سی غلطی یا معمولی تبدیلی پیچیدہ نظام میں بڑے اور تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

ناسا کے مطابق یہ فلمیں اس بات کی مثال ہیں کہ سائنس فکشن صرف خواب اور تخیل نہیں بلکہ سائنسی سوچ، تحقیق اور حقیقت پسندانہ حل پیش کرنے کا بھی ذریعہ ہو سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ناسا کے مطابق کرتے ہیں کی کہانی کو حقیقت کہ سائنس کرتی ہے فلم میں ہیں اور گیا ہے کے لیے یہ فلم

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف