data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج غیر معمولی اور تاریخ ساز تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھرپور انداز میں سامنے آیا، جس نے مارکیٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ کاروبار کے ابتدائی لمحات میں ہی مارکیٹ میں زبردست خریداری دیکھنے میں آئی اور انڈیکس ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ تیزی سے اوپر کی جانب بڑھتا رہا۔

بازار حصص میں آج کاروبار کا آغاز 1288 پوائنٹس کی شاندار تیزی سے ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار 455 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی، مقامی اداروں کی خریداری اور مثبت معاشی توقعات کے باعث مارکیٹ میں تیزی کا یہ سلسلہ برقرار رہا۔

کچھ ہی دیر بعد مجموعی تیزی 1355 پوائنٹس تک جا پہنچی اور انڈیکس ایک لاکھ 90 ہزار 522 پوائنٹس کی نئی تاریخی سطح کو چھو گیا، جو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس تیزی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں معاشی اشاریوں میں بہتری، مہنگائی کی شرح میں ممکنہ کمی کی توقعات، شرح سود کے حوالے سے مثبت اندازے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں حوصلہ افزا اشارے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں حکومتی پالیسیوں اور معاشی استحکام سے متعلق بیانات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے، جس کا براہ راست اثر اسٹاک مارکیٹ پر نظر آ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی طور پر تیزی کا رجحان غالب رہا تھا، اگرچہ بعض سیشنز میں جزوی مندی بھی دیکھنے میں آئی، تاہم مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہا اور مارکیٹ نے مثبت سمت اختیار کیے رکھی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تیزی اس بات کی عکاس ہے کہ سرمایہ کار معیشت کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں اور طویل المدتی سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ