متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن سکیورٹی کیلئے نیا قانون نافذ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق بچوں کو انٹرنیٹ کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے مقصد کے تحت اماراتی چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی قانون لاگو کیا گیا ہے، جس کے تحت بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نگرانی کی قانونی ذمہ داری والدین پر عائد کر دی گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق والدین پر لازم ہوگا کہ وہ بچوں کے آن لائن استعمال، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ڈیجیٹل عادات پر باقاعدہ نظر رکھیں، جو اب صرف اخلاقی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری بھی تصور کی جائے گی۔
قانون کے تحت والدین کو بچوں کے موبائل فونز، ٹیبلٹس اور لیپ ٹاپس کے استعمال کی نگرانی کرتے ہوئے انہیں نامناسب اور خطرناک مواد سے بچانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن گیمز، سرچ انجنز اور اسٹریمنگ سروسز پر محفوظ اور موزوں ماحول فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی بچوں کی آن لائن سکیورٹی کو یقینی بنانے کی پابند ہوں گی، جبکہ متحدہ عرب امارات سے باہر کام کرنے والی کمپنیاں بھی ان قوانین کی پاسداری کی ذمہ دار ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔