متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن سیکیورٹی کیلئے نیا قانون نافذ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرات سے بچانے کے لیے متحدہ عرب امارات میں نیا چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی قانون نافذ کر دیا گیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اماراتی حکام نے نئے قوانین کے حوالے سے بتایا ہے کہ عرب امارات میں 60 فیصد بچے نامناسب مواد کا سامنا کر چکے ہیں، بچوں کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن گیمز کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
اماراتی نئے قانون کے ضوابط میں والدین کی ذمہ داری صرف مشورے تک محدود نہیں رہی بلکہ قانونی فریضہ ہوگی اور بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی قانونی ذمہ داری والدین پر عائد ہوگی۔
اماراتی حکام نے والدین سے بچوں پر کڑی نظر رکھنے کی درخواست کی ہے، والدین کے فرائض میں شامل ہوگا کہ وہ بچوں کے موبائل، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ پر نظر رکھیں، خطرناک مواد سے بچائیں، بچوں کو آن لائن تشدد، بلیک میلنگ، فراڈ اور غیر اخلاقی مواد سے محفوظ بنائیں۔
حکام نے مزید بتایا ہے کہ اب بچوں کے اکاؤنٹس کے لیے عمر کی تصدیق لازمی ہوگی۔
ڈیجیٹل کمپنیاں بھی سیکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوں گی، انٹرنیٹ کے سرچ انجنز اور اسٹریمنگ سروسز کو بھی بچوں کے لیے مکمل محفوظ بنانا ہوگا۔
عرب امارات سے باہر ڈیجیٹل کمپنیاں بھی محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوں گی۔
نئے اماراتی قوانین میں سخت پروٹوکولز پر مشتمل ہے، ڈیجیٹل مواد کی فلٹرنگ، پیرنٹل کنٹرول، اشتہارات پر پابندی اور اسکرین ٹائم کی حد لازمی بنائی گئی ہے۔
عرب امارات میں 4 ہزار سے زائد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عرب امارات میں
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔