پاکستان میں کویتی سرمایہ کاری سے نئے اسلامی ڈیجیٹل بینک کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق کویت کے تعاون سے رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان میں اسلامی بینکاری کے فروغ میں مدد دے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے استحکام اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا بھی باعث بنے گا۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک آئندہ ماہ پاکستان میں باقاعدہ طور پر اپنے آپریشنز کا آغاز کرے گا۔ ابتدائی مرحلے میں اس بینک میں 10 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جسے ملکی مالیاتی نظام کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بینک کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کی معاونت سے قائم کیا گیا ہے، جو دنیا کے معتبر سرمایہ کاری اداروں میں شمار ہوتی ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کا قیام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی معیشت میں جاری اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر عالمی شراکت داروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ اس منصوبے میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل کی مؤثر سہولت کاری نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ایک سازگار اور شفاف ماحول فراہم کیا گیا۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے اس موقع پر کہا کہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی سمت میں مثبت پیش رفت اور اصلاحاتی پالیسیوں پر بڑھتے بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان مالیاتی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے، جو مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کرے گا۔
رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام کرے گا اور اسلامی اصولوں کے مطابق بینکاری خدمات فراہم کرے گا۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل بینکاری کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بینکاری نظام کو تیز، شفاف اور زیادہ مؤثر بنانا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکے، خصوصاً وہ طبقہ جو روایتی بینکاری سہولیات سے محروم ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منصوبے پاکستان میں مالی شمولیت، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کا آغاز ملکی معیشت کے لیے ایک اور سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں جدید، مستحکم اور شریعت کے مطابق مالیاتی نظام کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک پاکستان میں سرمایہ کاری کے مطابق رہا ہے کرے گا
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔