حلیمہ سعدیہ اسلامی جمعیت طالبات کی ناظمہ اعلیٰ منتخب
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (صباح نیوز)پاکستان میں طالبات کی واحد نمائندہ تنظیم، اسلامی جمعیت طالبات پاکستان نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی سالانہ اجتماع برائے ارکان و امیدواران میں اپنے نئے نظم کا انتخاب کیا۔ مرکز طالبات، منصورہ میں ہونے والے انتخابات میں اراکین جمعیت نے کثرت رائے سے کراچی کی حلیمہ سعدیہ کو ناظمہ اعلیٰ منتخب کیا ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ سے مشورے کے بعد ناظمہ اعلیٰ نے راولپنڈی سے مسفرہ فرحین کو معتمدہ عام، لاہور سے رحاب عنبر کو معاون معتمدہ عام اور کشمیر سے امامہ بابر کو معاون خصوصی مقرر کیا۔استصواب کی روشنی میں عربا نعیم ناظمہ صوبہ شمالی پنجاب، اریبہ فاطمہ ناظمہ صوبہ جنوبی پنجاب، آمنہ صدیقی ناظمہ صوبہ سندھ، تابندہ سحر ناظمہ صوبہ خیبر، انعم یونس ناظمہ کشمیر اور سمیہ رفیع نگران بلوچستان مقرر کی گئیں۔اجتماع کے اختتام پر نو منتخب ناظمہ اعلیٰ نے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کارکنان سے کہا کہ اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔ جتنا آپ اپنے رب سے قریب ہوں گے اتنا ہی آپ اپنے کاموں کو بخوبی انجام دے سکیں گے۔ اپنی صلاحیتوں کو راہ خدا میں بہترین طریقے سے استعمال کریں۔اجتماع سے امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمن اور قیمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان حمیرا طارق نے بھی خطاب کیا اور نئے نظم کو استقامت کی دعاؤں سے نوازا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناظمہ اعلی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔