data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صورتحال کے تناظر میں تقریباً 100 افراد کو گھروں میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے جبکہ ایک مریض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بلا ضرورت عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ مقامی صحت کے ادارے متاثرہ علاقوں میں نگرانی بڑھا رہے ہیں اور ممکنہ رابطے میں آنے والے افراد کی صحت کی جانچ جاری ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی خطرے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، تھائی لینڈ نے مغربی بنگال سے آنے والے مسافروں کے لیے بڑے ہوائی اڈوں پر متعدی بیماریوں کی اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے تاکہ وائرس کی سرحد پار پھیلنے کی صورت میں فوری طور پر روک تھام کی جا سکے۔

واضح رہے کہ نپاہ وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا، یہ ایک خطرناک زونوٹک وائرس ہے، جو بنیادی طور پر چمگادڑوں کے ذریعے انسانی آبادی تک پہنچتا ہے،اس وائرس کے لیے فی الوقت کوئی مخصوص علاج یا منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے عوامی احتیاط اور حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ماہرین صحت نے تنبیہ کی ہے کہ نپاہ وائرس انسانی جسم میں شدید انفیکشن اور نمونیا جیسے پیچیدہ علامات پیدا کر سکتا ہے، اور اس کی بروقت تشخیص اور قرنطینہ کے اقدامات ہی اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ مغربی بنگال میں موجود طبی ادارے اور حکومت اس وبائی خطرے سے نمٹنے کے لیے شب و روز سرگرم ہیں، جبکہ بین الاقوامی کمیونٹی بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مغربی بنگال

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی