شانزے علی کے بھارتی ملبوسات پر دادا شیخ روحیل اصغر کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)حال ہی میں ہونے والی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز و کیپٹن (ر) صفدر کے صاحبزادے جنید صفدر اور ن لیگی رہنما شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے علی روحیل کی شادی کا چرچہ تاحال جاری ہے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق سوشل میڈیا صارفین شادی کے مختلف پہلوؤں، خصوصاً سٹائلنگ، ملبوسات اور دیگر وائرل لمحات پر کھل کر تبصرے کر رہے ہیں، بالخصوص دلہن شانزے علی روحیل کے مہندی اور بارات کے ملبوسات زیرِ بحث رہے، کیونکہ یہ ملبوسات بھارتی ڈیزائنرز کے تیار کردہ تھے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق ان کا مہندی کا لباس سبیاساچی مکھرجی جبکہ بارات کی ساڑھی ترون تہلیانی نے ڈیزائن کی تھی۔ بعض مداحوں نے بھارتی ڈیزائنرز کی ویب سائٹس پر جا کر ان ملبوسات کی قیمتوں کا بھی اندازہ لگایا۔
لاہور، وکیل نے بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی ہی چھت مانگ لی
اب حال ہی میں جنید صفدر کے سسر اور شانزے علی روحیل کے دادا شیخ روحیل اصغر نے ان ملبوسات پر ہونے والی تنقید پر ردِعمل کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے روحیل اصغر نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ شادی پر خرچ ہونے والی رقم پر کیوں ناراض ہیں۔ میں نے اپنی حیثیت کے مطابق کیا جو کچھ کیا۔ میں نے کسی سے کچھ لیا؟
انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے حقیقت سے واقف نہیں ہیں، لوگ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ شادی کے ملبوسات بھارتی ڈیزائنرز کے تھے، جبکہ انہیں یہ علم نہیں کہ شانزے کی پُھوپھی، یعنی میری چھوٹی بیٹی، پاکستان کی بڑی ڈریس ڈیزائنرز میں سے ایک ہے اور کئی لوگ ان سے اپنے لباس تیار کرواتے ہیں۔
جموں و کشمیر کمیونٹی اوورسیز کے بانی اراکین سردار عبداللطیف عباسی (مرحوم) اور انجینئر سردار اعظم (مرحوم) کی خدمات کے سلسلے میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام
انہوں نے مزید کہا کہ میں ایسے بیمار ذہن رکھنے والوں پر افسوس کرتا ہوں اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ اس طرح کی باتوں پر کیوں بحث کرتے ہیں۔
روحیل اصغر کے مطابق لوگوں کو یہ رویہ ترک کر دینا چاہیے، کیونکہ جو کچھ آج وہ کہہ رہے ہیں، کل وہی باتیں ان کی طرف بھی لوٹ سکتی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: روحیل اصغر شانزے علی کے مطابق
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔