روسی آئل نیٹ ورک کیخلاف کارروائی، فرانس نے مشتبہ تیل بردار جہاز کا بھارتی کپتان گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پیرس: فرانس کی بحریہ نے بحیرۂ روم میں روس پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کے شبے میں ایک آئل ٹینکر کو روکنے کے بعد اس کے کپتان کو حراست میں لے لیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ٹینکر کے 58 سالہ بھارتی کپتان کو اتوار کے روز تفتیش کے لیے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
مارسی کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق آئل ٹینکر گرنچ (Grinch) کو موڑ کر خلیج فوس سر میر (Fos-sur-Mer) میں لنگر انداز کیا گیا، جہاں اس کے کپتان کو تحویل میں لیا گیا۔ تحقیقات میری ٹائم جینڈرمیری کے تحقیقاتی یونٹ اور مارسی شپ سیفٹی سینٹر مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ ٹینکر پر لہرایا جانے والا جھنڈا اور جہاز رانی سے متعلق دستاویزات درست اور قانونی ہیں یا نہیں۔ بیان کے مطابق جہاز کا عملہ، جو تمام بھارتی شہری ہیں، تاحال ٹینکر پر ہی موجود ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق ٹینکر گرنچ روس کے شمال مغربی شہر مرمانسک سے آیا تھا اور شبہ ہے کہ یہ روسی “شیڈو فلیٹ” کا حصہ ہے، جو یوکرین جنگ کے باعث روس پر لگائی گئی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
https://dailymumtaz.
فرانسیسی فوج کی جانب سے جاری ویڈیو میں بحریہ کے اہلکاروں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر سوار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یورپی ممالک کے مطابق روس پابندیوں سے بچنے کے لیے 400 سے زائد جہازوں پر مشتمل ایک خفیہ فلیٹ استعمال کر رہا ہے۔ فرانس اور دیگر ممالک نے اس نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔