پیرس: فرانس کی بحریہ نے بحیرۂ روم میں روس پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کے شبے میں ایک آئل ٹینکر کو روکنے کے بعد اس کے کپتان کو حراست میں لے لیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ٹینکر کے 58 سالہ بھارتی کپتان کو اتوار کے روز تفتیش کے لیے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

مارسی کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق آئل ٹینکر گرنچ (Grinch) کو موڑ کر خلیج فوس سر میر (Fos-sur-Mer) میں لنگر انداز کیا گیا، جہاں اس کے کپتان کو تحویل میں لیا گیا۔ تحقیقات میری ٹائم جینڈرمیری کے تحقیقاتی یونٹ اور مارسی شپ سیفٹی سینٹر مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ ٹینکر پر لہرایا جانے والا جھنڈا اور جہاز رانی سے متعلق دستاویزات درست اور قانونی ہیں یا نہیں۔ بیان کے مطابق جہاز کا عملہ، جو تمام بھارتی شہری ہیں، تاحال ٹینکر پر ہی موجود ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق ٹینکر گرنچ روس کے شمال مغربی شہر مرمانسک سے آیا تھا اور شبہ ہے کہ یہ روسی “شیڈو فلیٹ” کا حصہ ہے، جو یوکرین جنگ کے باعث روس پر لگائی گئی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
https://dailymumtaz.

com/wp-content/uploads/2026/01/arrest.mp4

فرانسیسی فوج کی جانب سے جاری ویڈیو میں بحریہ کے اہلکاروں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر سوار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ یورپی ممالک کے مطابق روس پابندیوں سے بچنے کے لیے 400 سے زائد جہازوں پر مشتمل ایک خفیہ فلیٹ استعمال کر رہا ہے۔ فرانس اور دیگر ممالک نے اس نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر رکھا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا