پاکستان میں ٹریژری بلز میں غیرملکی سرمایہ کاری 114.7 ملین ڈالر سے تجاوز، معاشی اعتماد میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پاکستان نے 2026 کا آغاز بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے واضح اشاروں کے ساتھ کیا ہے۔
جنوری کے پہلے 16 دنوں میں ٹریژری بلز میں غیر ملکی سرمایہ کاری 114.7 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ 6 ماہ سے زیادہ عرصے میں سب سے زیادہ ماہانہ سرمایہ کاری ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق۔
یہ مضبوط رجحان پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، جس میں مستحکم ایکسچینج ریٹ، شرحِ مہنگائی میں کمی (3.
یہ بھی پڑھیے: وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی ڈیووس میں سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح سے ملاقات
اگرچہ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ہے، پاکستان کے مالیاتی بازار مستحکم، قابلِ پیشگوئی، اور سرمایہ کاری کے قابل نظر آ رہے ہیں۔ مالی سال 26 کے دوران ٹریژری بلز میں غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے ہی 625 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو ملکی اقتصادی سمت پر اعتماد کی تجدید کو اجاگر کرتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی مالی پالیسی میں آسانی نے شرح سود کم کی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو برقرار رکھا، جس سے پالیسی پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ مستحکم ایکسچینج ریٹ نے کرنسی کے خطرات کو کم کیا اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو پرکشش بنایا۔ علاوہ ازیں، 3.5٪ شرحِ مہنگائی نے استحکام کو نقصان پہنچائے بغیر ترقی پسند پالیسیوں کے لیے جگہ پیدا کی۔
یہ بھی پڑھیے: کیا 11 سالہ شہزادی شارلٹ سب سے پر اعتماد کم عمر شاہی شخصیت بنتی جا رہی ہیں؟
صنعتی نمو میں 10٪ اضافہ اور بڑھتے ہوئے زرِ مبادلہ ذخائر معیشت میں وسیع بنیادوں پر بحالی کا عندیہ دیتے ہیں۔ ٹریژری بلز پروگرام غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔ اسٹیٹ بینک کا پالیسی فریم ورک سرمایہ کاروں کے لیے پیشگوئی کو بہتر بنائے گا اور اعتماد میں اضافہ کرے گا۔
ایکسچینج ریٹ مینجمنٹ حکمت عملی اتار چڑھاؤ کم کرے گی، ذخائر کو محفوظ رکھے گی اور سرمایہ کاری کے مسلسل بہاؤ کو سپورٹ کرے گی۔
میکرو اکنامک استحکام اصلاحات پاکستان کی سُوورین کریڈیبلیٹی میں اضافہ اور طویل مدتی قرض کی لاگت کم کریں گی۔ صنعتی اور مینوفیکچرنگ کی بحالی روزگار کے مواقع، برآمدات کی مسابقت اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دے گی۔ یہ تمام عوامل واضح کرتے ہیں کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مستحکم اور پرکشش مارکیٹ کے طور پر ابھر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سرمایہ کاری غیرملکی سرمایہ کاری معیشت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری غیرملکی سرمایہ کاری اور سرمایہ کاری کے ملکی سرمایہ کاری غیر ملکی سرمایہ سرمایہ کاروں کے ٹریژری بلز کے لیے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔