سوات سے پنجاب میں منشیات کی اسمگلنگ کو ناکام بنا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پنجاب اسمگل کی جانے والی منشیات کی ایک قابلِ ذکر مقدار کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر سوات سے پنجاب کے مختلف علاقوں میں منشیات کی ترسیل کو ہدف بنایا گیا۔
ڈائریکٹر راولپنڈی ڈویژن، لیفٹیننٹ کرنل (ر) حمیر اعظم کے احکامات پر راولپنڈی ڈویژن کی اسٹرائیک ٹیم کو متعلقہ مقام پر تعینات کیا گیا۔ مشتبہ گاڑی کا ایم ون موٹروے پر تعاقب کیا گیا اور گاڑی کو برہان انٹرچینج ایم ون کے قریب روک کر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
گاڑی سے منشیات کی بھاری مقدار برآمد کی گئی۔ برآمد شدہ منشیات میں 233 کلوگرام چرس، 15 کلو گرام افیون شامل ہے۔
حمیر اعظم نے کہا کہ اس اسمگلنگ کی کوشش میں ملوث مکمل نیٹ ورک کی نشاندہی اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔
یہ کارروائی مؤثر انٹیلیجنس ہم آہنگی، بروقت تعیناتی، پیشہ ورانہ تعاقب اور ملزم کی کامیاب گرفتاری کا واضح ثبوت ہے۔ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس عوام کے تحفظ اور پنجاب کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے متحرک ہے۔
حمیر اعظم نے مزید کہا کہ راولپنڈی ڈویژن کی اسٹرائیک ٹیم منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے عزم پر قائم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منشیات کی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔