پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 223 ارب روپے کے اضافے کی خبر گمراہ کن قرار
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاور ڈویژن نے رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران گردشی قرضے میں 223 ارب روپے کے اضافے کی خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا۔
ترجمان پاور ڈویژن نے گردشی قرض کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 223 ارب روپے کے گردشی قرض میں اضافے کی خبر گمراہ کن ہے۔
ترجمان کے مطابق بینکوں کے ساتھ معاہدے کے باوجود جولائی تا نومبر 2025 سرکلر ڈیٹ کا موازنہ غلط ہے جبکہ نومبر 2025 کا جون 2025 سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، درست موازنہ گزشتہ جولائی تا نومبر کی مدت سے ہونا چاہیے تھا۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحت دی کہ بینکوں سے معاہدے کا سرکلر ڈیٹ فلو سے کوئی تعلق نہیں، بینکوں سے معاہدہ مہنگے پی ایل پی ایل قرضے کی ری فنانسنگ کے لیے تھا۔ جولائی تا نومبر 2024 میں اضافہ موسمی عوامل کی وجہ سے ہے۔
مزید پڑھیںرواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں 223 ارب روپے کا اضافہ
بجلی کی کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے، پاور ڈویژن
ترجمان کے مطابق دسمبر 2025 میں سرکلر ڈیٹ فلو میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ جولائی تا دسمبر گردشی قرض میں نیٹ اضافہ 80 ارب سے کم رہا جبکہ گردشی قرض میں کمی ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنانے اور لیٹ پیمنٹس کے خاتمے سے ہوئی۔
مالی سال 2024-25 میں سرکلر ڈیٹ کم ہو کر جون 2025 تک 1614 ارب روپے پر آ گیا۔ ڈسکوز کی کارکردگی بہتر ہوئی اور ایک سال میں 193 ارب روپے کے نقصانات کم ہوئے، جولائی تا دسمبر 2025 میں مزید 49 ارب روپے کے نقصان کم ہوئے۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک سرکلر ڈیٹ مکمل کنٹرول میں آ جائے گا، 1225 ارب روپے سرکلر ڈیٹ سیٹلمنٹ پلان 6 سال میں مکمل ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے کے پاور ڈویژن سرکلر ڈیٹ مالی سال
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں