کابل:(نیوزڈیسک)طالبان رجیم میں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے باعث افغانستان میں زندگی خوف میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ طالبان کی عوام دشمن پالیسیوں اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں نے ملک کو شدید انسانی المیے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق شرپسند افغان ٹولے نے ناجائز تسلط برقرار رکھنے کے لیے جابرانہ ہتھکنڈوں کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔

افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق طالبان رجیم کے بڑھتے تشدد اور دباؤ کے باعث عوام شدید خوف اور تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسی گاڑیوں میں خواتین کو لے جانے پر پابندی کے باعث ڈرائیور طالبان کے خوف سے اکثر انکار کر دیتے ہیں۔ ہشت صبح کے مطابق سرکاری ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے بلا جواز گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ طالبان کی وزارت کی جانب سے ایک گریجویشن تقریب کے دوران میڈیکل طلبہ کو تضحیک کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے نام نہاد ’’علاقائی پاسپورٹ‘‘ فارم کے ذریعے عوام سے بار بار معلومات جمع کر کے نفسیاتی دباؤ اور مسلسل نگرانی کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کی نقل و حرکت پر پابندی، ملازمین کی بلاجواز گرفتاریاں اور مسلسل نگرانی نے افغان عوام کو شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی عوام دشمن پالیسیاں، نفسیاتی دباؤ اور مسلسل نگرانی ایک پوری نسل کو خوف، اضطراب اور انسانی المیے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار