طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی، انسانی المیہ جنم لینے لگا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کابل:(نیوزڈیسک)طالبان رجیم میں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے باعث افغانستان میں زندگی خوف میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ طالبان کی عوام دشمن پالیسیوں اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں نے ملک کو شدید انسانی المیے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق شرپسند افغان ٹولے نے ناجائز تسلط برقرار رکھنے کے لیے جابرانہ ہتھکنڈوں کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔
افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق طالبان رجیم کے بڑھتے تشدد اور دباؤ کے باعث عوام شدید خوف اور تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسی گاڑیوں میں خواتین کو لے جانے پر پابندی کے باعث ڈرائیور طالبان کے خوف سے اکثر انکار کر دیتے ہیں۔ ہشت صبح کے مطابق سرکاری ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے بلا جواز گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ طالبان کی وزارت کی جانب سے ایک گریجویشن تقریب کے دوران میڈیکل طلبہ کو تضحیک کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے نام نہاد ’’علاقائی پاسپورٹ‘‘ فارم کے ذریعے عوام سے بار بار معلومات جمع کر کے نفسیاتی دباؤ اور مسلسل نگرانی کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کی نقل و حرکت پر پابندی، ملازمین کی بلاجواز گرفتاریاں اور مسلسل نگرانی نے افغان عوام کو شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی عوام دشمن پالیسیاں، نفسیاتی دباؤ اور مسلسل نگرانی ایک پوری نسل کو خوف، اضطراب اور انسانی المیے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔