اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس، شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 26 January, 2026 سب نیوز

کراچی (آئی پی ایس )اسٹیٹ بینک نے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اگلے ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود 10.5 فیصد کی سطح پر برقرار رہے گی۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہوا جس میں شرح سود کا تعین کیا گیا۔اجلاس کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے شرح سود کے حوالے سے اعلان کیا۔گورنر نے بینکوں کی نقد رقوم جمع کروانے کی شرح میں ایک فیصد کم کرکے 5 فیصد مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق دسمبر میں مہنگائی 5.

6 فیصد، بنیادی مہنگائی 7.4 فیصد پر مستحکم رہی، معاشی نمو کی رفتار توقع سے تیز رہی یہ شرح فسکل ایئر 2026 میں 4.75 فیصد کی سطح تک رہنے کا امکان ہے، درآمدات میں اضافے سے تجارتی خسارہ بڑھا، کرنٹ اکانٹ خسارہ قابو میں رہا، زرمبادلہ کے ذخائر 16.1 ارب ڈالر، جون تک 18 ارب ڈالر سے تجاوز کی توقع ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا۔مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق ایف بی آر ریونیو ہدف سے کم رہا، 329 ارب روپے کا شارٹ فال کا سامنا رہا،

بینکوں کے لیے کیش ریزرو ریشو 6 سے کم ہو کر 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔رواں مالی سال افراط زر کی شرح 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہنے کی توقع ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں 578 ارب روپے کا اضافہ ہوا، دسمبر 2025 میں کرنٹ اکانٹ خسارہ 244 ملین ڈالر رہا، پہلی ششماہی میں مجموعی خسارہ 1.2 ارب ڈالر رہا، درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی اس کی بڑی وجہ بنی، ترسیلات زر اور آئی سی ٹی برآمدات نے خسارہ قابو میں رکھا۔ رواں مالی سال کرنٹ اکانٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی جائزے میں اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کی سطح پر لایا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق پالیسی ریٹ گزشتہ 4 سال سے دہرے ہندسوں میں رہا ہے جب کہ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ شرح سود کے سنگل ڈیجیٹ میں آنے سے معیشت کے بحالی و استحکام کی جانب جانے کا واضح پیغام ملے گا، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے رجحان کو تقویت ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی نمو 3.7 فیصد رہی جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1.6 فیصد تھی، آٹو سیلز، سیمنٹ، پی او ایل مصنوعات، کھاد اور مشینری کی درآمدات میں اضافے سے معاشی رفتار برقرار رہی، رواں مالی سال جولائی تا نومبر ایل ایس ایم میں مجموعی طور پر 6 فیصد اضافہ ہوا۔ گندم کی فصل کے امکانات حوصلہ افزا ہیں، ان عوامل کے باعث رواں مالی سال میں معاشی نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت کا معاملہ، وزیر اعظم سے چیئرمین پی سی بی کی مشاورت ٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت کا معاملہ، وزیر اعظم سے چیئرمین پی سی بی کی مشاورت وزیراعلی مریم کا پنجاب بھر میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ سونے کی قیمت میں 10 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ بورڈ آف پیس صرف غزہ تک محدود نہیں، بھارت میں تہلکہ مچا ہوا ہے، مشاہد حسین سید پاکستان ،میانمار دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے فروغ پر متفق فراڈ کیس میں فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: مانیٹری پالیسی کمیٹی رواں مالی سال اسٹیٹ بینک ارب ڈالر کا فیصلہ کی توقع

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ