امسال 25 ارب ڈالر قرض ،12.5 ارب ڈالر رول اوور ہو رہا ہے:جمیل احمد
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)گورنر سٹیٹ بینک نے اہم بیان جاری جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کواس سال 25 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنا ہیں، 25ارب ڈالرمیں سے12.5ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور ہو رہا ہے، پاکستان کے بیرونی قرضوں کی کمپوزیشن بہت بدل گئی ہے، پاکستان نے7ارب ڈالر کے قرضے واپس بھی کر دیے ہیں، اب پاکستان کے بیرونی قرضے زیادہ ترلانگ ٹرم ہوں گے پہلے شارٹ ٹرم تھے۔
تفصیلات کے مطابق جمیل احمد کا کہناتھا کہ پاکستان کا بیرونی قرض 4 سال سے نہیں بڑھا،100ارب ڈالر سے نیچے ہی رہے گا،عالمی سطح پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بڑھے گی،اسمگلنگ پر کریک ڈاؤن سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہوا، اسٹیٹ بینک نے پچھلے 3 سال میں کھلی مارکیٹ سے 22 ارب ڈالر خریدے ہیں۔
سٹیٹ بینک نے ملکی زرمبادلہ ذخائر کا ہدف بھی تبدیل کر لیاہے ، گورنر نے کہا کہ دسمبر تک پاکستان کے سرکاری ڈالرذ خائر 20 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گے، اس میں کمرشل بینکوں کے ڈالر ڈپازٹس شام نہیں ہوں گے، اس وقت پاکستان کے سرکاری ڈالر ذخائر16.
جمیل احمد کا کہناتھا کہ دسمبر2026ءتک پاکستان کےسرکاری ڈالرذخائرتاریخ کی بلندترین سطح پرپہنچ جائیں گے، اگست 2021 ءمیں پاکستان کے سرکاری ڈالر ذخائر 20 ارب ڈالر پر پہنچے تھے، دسمبر تک پاکستان 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ڈالر ذخائر رکھنے کا سنگ میل حاصل کر لے گا، نومبر دسمبر میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں زیادہ اضافہ ہوا، سیلاب کے منفی اثرات بھی محدود رہے،زراعت کے شعبے میں بہتری آئے گی۔
گورنر سٹیٹ بینک کا کہناتھا کہ اسٹیٹ بینک نے معاشی شرح نمو کے اپنے دیئے گئے ہدف سے رجوع کر لیا، اسٹیٹ بینک کے پچھلے تخمینے سے جی ڈی پی گروتھ اب زیادہ ہو گا، اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ جی ڈی پی گروتھ اب زیادہ ہو گی، پہلے اسٹیٹ بینک نےجی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.25 فیصد سے4.24فیصد لگایا تھا، اسٹیٹ بینک سمجھتاہےکہ ملکی جی ڈی پی گروتھ رواں مالی سال3.75فیصدسے4.75فیصدرہےگی۔
ان کا کہناتھا کہ اسٹیٹ بینک نے دوسرا بہت اہم فیصلہ بھی کیا، اسٹیٹ بینک نےنجی شعبے کو قرضوں کے اجرا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا، بینکس کیش ریزرو اسٹیٹ بینک کے پاس رکھواتا ہے، کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کی یومیہ حد کو ایک فیصد کم کر دیا ہے، اب بینکس اسٹیٹ بینک کےپاس کیش ریزرو 6 فیصد کے بجائے 5 فیصد رکھوائیں گے، 15روزہ کیش ریزرو ریکوائرمنٹ میں بھی تین فیصد کمی کر دی ہے، اب بینکوں کے پاس کیش یا لیکویڈیٹی زیادہ ہو گی اور وہ نجی شعبے کو زیادہ قرضے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا مہنگائی کا ہدف 5سے 7 فیصد ہی ہے، مہنگائی کچھ ماہ میں بڑھے گی پھر دوبارہ ہدف کے اندر آجائے گی، اسٹیٹ بینک کا تخمینہ ہےکہ ملکی کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کا0.2فیصد سے 1 فیصد رہے گا، جی ڈی پی گروتھ بڑھنا شروع ہو گئی ہے،مکمل اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے، سیمنٹ،آٹو،پیٹرولیم،بجلی،یوریاسب کی سیلز اور بڑی صنعتوں کی پیداوار بڑھ رہی ہے۔
جمیل احمد نے بتایا کہ ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے شرح سود کو 10.5 فیصدپر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا،درآمدات بڑھ رہی ہیں، اجلاس میں جی ڈی پی گروتھ کا تفصیلی جائزہ لیا، رواں مالی سال کے دوسری سہ ماہی میں مہنگائی 7 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے، ایکسٹرنل اکاؤنٹس میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا، مانیٹری پالیسی نے مہنگائی کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔