پنجاب میں رمضان نگہبان پیکیج: 47 ارب روپے کا تاریخی ریلیف منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے سے قبل صوبے بھر کے مستحق اور نادار افراد کے لیے 47 ارب روپے کے خطیر رمضان نگہبان پیکیج کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 42 لاکھ خاندانوں اور ایک کروڑ سے زائد افراد کو براہِ راست مالی اور راشن کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رمضان نگہبان کارڈ کے ذریعے ہر مستحق خاندان کو 10 ہزار روپے نقد دیے جائیں گے، جبکہ راشن کی خریداری کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ یہ کارڈ بینک آف پنجاب کے اے ٹی ایم، ون لنک نیٹ ورک اور برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس کے ذریعے استعمال کیا جا سکے گا۔ حکومت پنجاب رمضان المبارک میں ہر تحصیل میں ”نگہبان دسترخوان — مریم کے مہمان“ کے نام سے افطار کا خصوصی انتظام کرے گی، جہاں روزانہ دو ہزار روزہ داروں کو افطاری فراہم کی جائے گی۔ ان دسترخوانوں پر کھجور، سموسہ، دودھ، روح افزا، کیلا اور چکن بریانی شامل ہوگی۔ مزید برآں صوبہ بھر میں سہولت بازار قائم کیے جائیں گے جہاں عوام کو سستی اشیائے خورونوش میسر ہوں گی۔ راشن کارڈ ہولڈرز کو بھی رمضان میں ماہانہ تین ہزار کے بجائے دس ہزار روپے دیے جائیں گے۔ فری ہوم ڈیلیوری سروس کے ذریعے بزرگ اور معذور افراد کو گھروں تک راشن پہنچایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ رمضان میں کوئی ماں، کوئی باپ، کوئی مزدور اور کوئی سفید پوش خاندان تنہا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خدمتِ خلق عبادت ہے اور حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔