پشاور، محکمہ ایکسائز نے 2 ماہ میں 1 ارب روپےریونیو جمع کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پشاور(نیوزڈیسک) محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا نے دو ماہ کے دوران ایک ارب روپے کا ریونیو جمع کرلیا۔ پورے سال کیلئے ہدف 7 ارب 40 کروڑ روپے رکھا گیا ۔ صوبے بھر میں چار لاکھ سے زائد اربن پراپرٹیز کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے وسائل بڑھانے کے لئے محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن نے محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا نے دو ماہ کے دوران ایک ارب کا ریونیو جمع کرلیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.
محکمہ نے رہائشی اور کمرشمل علاقوں کا سروے ڈیجٹائز کردیا ہے ۔ عوامی سہولت اور شفافیت کیلئے قانونی و ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرادی گئیں ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس کا آن لائن سافٹ ویئر اور موبائل ایپ بھی فعال کردیا گیا ہے۔
پروفیشنل ٹیکس کی ڈیجیٹلائزیشن پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ عوامی مسائل کے حل کے لئے ای کھلی کچہری کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ ایکسائز
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔