گوشت کے بغیر پروٹین کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اگر آپ گوشت نہیں کھاتے یا اپنی خوراک میں کم گوشت شامل کرنا چاہتے ہیں تو بھی پروٹین کی ضروریات کو پورا کرنا ممکن ہے۔ ماہر غذائیت کے مطابق پودے اور سبزی آپ کو گوشت کے بغیر بھی پروٹین فراہم کرسکتے ہیں، بشرطِ یہ کہ آپ مختلف غذائیں مناسب مقدار میں شامل کریں۔
مرچ، دالیں، کشمش، چنے، لوبیا جیسے پھلیاں پروٹین کے مضبوط ذرائع ہیں۔ یہ فی ایک کپ قریباً 15–18 گرام پروٹین فراہم کرتے ہیں۔ سویا بین، ٹوفو، ایڈامامے، ٹمپی مکمل پروٹین کے ذرائع ہیں، یعنی ان میں جسم کو درکار تمام ضروری امینو ایسڈ موجود ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پروٹین سپلیمنٹس میں خطرناک حد تک سیسہ کی مقدار پائی گئی، کنزیومر رپورٹس
بادام، مونگ پھلی، کاجو، چیا، بھنگ، کدو کے بیج پروٹین کے ساتھ صحت مند چکنائی اور فائبر بھی فراہم کرتے ہیں۔ کوئنوآ اور دیگر پورے اناج جیسے براؤن رائس، جئی، بک ویٹ یا امارنیتھ پروٹین کے ساتھ ساتھ غذائی فائبر بھی دیتے ہیں۔
دودھ، دہی، پنیر (پنیر) پروٹین کے اچھے ذرائع ہیں اور پٹھوں کی مضبوطی میں مدد دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ سپروٹس (ان کھیتوں سے اگنے والی سبزیاں)، اوٹس، نٹ بٹر، سویا دودھ جیسی چیزیں بھی اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرتے ہیں۔
پودوں پر مبنی پروٹین میں بعض اوقات تمام ضروری امینو ایسڈ ایک ہی غذا میں نہیں ہوتے، اس لیے مختلف ذرائع کو اپنی خوراک میں ملاتے ہوئے کھانا بہتر رہتا ہے۔ دالیں اور پھلیاں خاص طور پر سستے اور غذائیت سے بھرپور انتخاب ہیں، جو مسلوں کی مرمت اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پروٹین شیک کے فوائد اور نقصانات، کیا آپ جانتے ہیں؟
گوشت کے بغیر پروٹین حاصل کرنا ممکن ہے۔ دالیں، سویا، ٹوفو، گری دار میوے، بیج، اناج اور ڈیری مصنوعات جیسے متوازن انتخاب سے آپ اپنی پروٹین کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروٹین گوشت کے بغیر پروٹین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروٹین گوشت کے بغیر پروٹین گوشت کے بغیر پروٹین کے کرتے ہیں
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔