بھارت میں تہلکا مچا ہوا ہے کہ پاکستان نے پیس آف بورڈ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ہمیں ایک پلیٹ فارم دیا ہے،بورڈ آف پیس صرف غزہ تک محدود نہیں۔ بھارت کے یوم جمہوریہ پر پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹ سروس میں یوم سیاہ کے نام سے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے بھارت میں اس وقت بہت تہلکہ مچا ہوا ہے، بھارت بے چین ہے کہ پاکستان نے پیس آف بورڈ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ مشاہد حسین سید نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین وہ دو ریاستیں ہیں جو پاکستان کی پالیسی میں شامل ہیں، پاکستان 2026 میں اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کا بھی رکن ہے، اس کے ذریعے کشمیر کاز کو پروموٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بھارت میں آر ایس ایس ایک اسٹیٹ ہے جو فاشزم کی جماعت ہے، ہندوستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کا نظریہ ہندوتوا ہے۔ حریت رہنما الطاف احمد وانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلی بار دنیا میں پیس میکر کے طور پر ابھرا ہے، حکومت کا فیصلہ سیاسی، عسکری اور بیوروکریسی کی مشاورت سے کیا گیا، عالمی سطح پر ملنے والے موقع کو کیش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلے کو عوام اور انٹلیکچول کلاس کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے، ذاتی ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کی سپورٹ ضروری ہے، پاکستان آج ٹیبل پر ہے مینیو میں نہیں۔ الطاف احمد وانی نے کہا کہ خطے میں سب سے بڑا اور اہم تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے، کشمیر ایشو ایک بار پھر عالمی لائم لائٹ میں آ رہا ہے، بھارت کشمیر پر بڑھتی عالمی توجہ سے پریشان نظر آ رہا ہے۔ سیمینار میں چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مشاہد حسین سید نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔