آسٹریلیا کا قومی دن :پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے:صدرمملکت آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے آسٹریلیا کے قومی دن پرآسڑیلیا کے گورنر جنرل اور عوام کو مبارکبادپیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ دوستانہ اور تعمیری تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔پیرکو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان،آسٹریلیا شراکت داری باہمی احترام اور مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت،سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ امن اور مشترکہ خوشحالی کے لیے قریبی تعاون کے لیے پرعزم ہے، موسمیاتی مزاحمت اور جدت میں پاکستان آسٹریلیا تعاون کے نئے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے روابط سے باہمی تفہیم مزید مضبوط ہوگی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے علاقائی و عالمی امور میں پاکستان اور آسٹریلیا تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آصف علی زرداری نے پاکستان آسٹریلیا آسٹریلیا کے نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔