وادی کشمیر میں یوم جمہوریہ ہند کی تقریبات: حکومت نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سریندر چودھری نے ملک بھر کے سیاحوں کو کشمیر آنے کی دعوت دی، انکی یہ اپیل گزشتہ سال پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سیاحوں کی تعداد میں کمی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سخت سکیورٹی کے درمیان کشمیر میں آج 77واں یوم جمہوریہ منایا گیا۔ مرکزی تقریب سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی۔ اس کے علاوہ قصبوں اور دیگر دفاتر میں عہدیداروں کی جانب سے چھوٹے پروگرام منعقد کیے گئے۔ جموں و کشمیر کے نائب وزیراعلی سریندر چودھری نے سرینگر میں تقریب کی صدارت کی، مارچ پاسٹ کی قیادت کی اور قومی پرچم لہرایا۔ بخشی اسٹیڈیم کے اندر اور اطراف میں کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے پنڈال کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اسٹیڈیم میں تقریب میں شرکت کے خواہشمند عام لوگوں کے لیے انتظامیہ نے داخلہ کھلا رکھا تھا۔
اپنی تقریر میں چودھری نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو "بے حد تکالیف اور زخم" پہنچانے کے لئے پاکستان پر تنقید کی۔ سیکورٹی فورسز کی بہادری اور عزم کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی قربانیوں نے پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے باوجود کشمیر میں امن کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بارہا جموں و کشمیر میں امن کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس (پاکستان) نے ہماری ترقی اور سیاحت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن ہماری سیکورٹی فورسز نے اس کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے منتخب حکومت کی طرف سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے تحت شروع کیے گئے ترقیاتی پروگراموں کو بھی گنوایا۔
سریندر چودھری نے ملک بھر کے سیاحوں کو کشمیر آنے کی دعوت دی۔ ان کی یہ اپیل گزشتہ سال پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سیاحوں کی تعداد میں کمی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے جس میں بیسرن میں 25 غیر مقامی سیاحوں اور ایک مقامی ٹٹو آپریٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بخشی اسٹیڈیم میں مارچ پاسٹ پریڈ میں شرکت کرنے سے پہلے، چودھری نے لال چوک کے پرتاپ پارک میں بلیدان ستمبھ میں شہیدوں کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔ بلیدان ستمبھ کا سنگ بنیاد 24 جون 2023ء کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے رکھا تھا۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کو بھی سرینگر میں یوم جمہوریہ کے موقع پر مدعو کیا گیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا "یوم جمہوریہ پریڈ اور تقاریر سے بڑھ کر ہونا چاہیئے۔ 15 اگست 1947ء نے ہمیں نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی دلائی، لیکن 26 جنوری 1950ء نے ہمیں آزادی کے ساتھ اس آزادی کو جینے کا آئینی حق دیا جس میں خیالات اور مذہب کی آزادی کی ضمانت دی گئی اور سب سے بڑھ کر ووٹ ڈالنے کا اختیار۔ ہمارے آئین نے ان اقدار کے تحفظ کے لئے مضبوط ادارے بنائے، آج ان میں سے بہت سے اداروں کو ہندوستان کے تصور کو کمزور کرنے کے لیے ہتھیار بنایا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یوم جمہوریہ چودھری نے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان