سریندر چودھری نے ملک بھر کے سیاحوں کو کشمیر آنے کی دعوت دی، انکی یہ اپیل گزشتہ سال پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سیاحوں کی تعداد میں کمی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سخت سکیورٹی کے درمیان کشمیر میں آج 77واں یوم جمہوریہ منایا گیا۔ مرکزی تقریب سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی۔ اس کے علاوہ قصبوں اور دیگر دفاتر میں عہدیداروں کی جانب سے چھوٹے پروگرام منعقد کیے گئے۔ جموں و کشمیر کے نائب وزیراعلی سریندر چودھری نے سرینگر میں تقریب کی صدارت کی، مارچ پاسٹ کی قیادت کی اور قومی پرچم لہرایا۔ بخشی اسٹیڈیم کے اندر اور اطراف میں کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے پنڈال کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اسٹیڈیم میں تقریب میں شرکت کے خواہشمند عام لوگوں کے لیے انتظامیہ نے داخلہ کھلا رکھا تھا۔

اپنی تقریر میں چودھری نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو "بے حد تکالیف اور زخم" پہنچانے کے لئے پاکستان پر تنقید کی۔ سیکورٹی فورسز کی بہادری اور عزم کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی قربانیوں نے پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے باوجود کشمیر میں امن کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بارہا جموں و کشمیر میں امن کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس (پاکستان) نے ہماری ترقی اور سیاحت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن ہماری سیکورٹی فورسز نے اس کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے منتخب حکومت کی طرف سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے تحت شروع کیے گئے ترقیاتی پروگراموں کو بھی گنوایا۔

سریندر چودھری نے ملک بھر کے سیاحوں کو کشمیر آنے کی دعوت دی۔ ان کی یہ اپیل گزشتہ سال پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سیاحوں کی تعداد میں کمی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے جس میں بیسرن میں 25 غیر مقامی سیاحوں اور ایک مقامی ٹٹو آپریٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بخشی اسٹیڈیم میں مارچ پاسٹ پریڈ میں شرکت کرنے سے پہلے، چودھری نے لال چوک کے پرتاپ پارک میں بلیدان ستمبھ میں شہیدوں کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔ بلیدان ستمبھ کا سنگ بنیاد 24 جون 2023ء کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے رکھا تھا۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کو بھی سرینگر میں یوم جمہوریہ کے موقع پر مدعو کیا گیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا "یوم جمہوریہ پریڈ اور تقاریر سے بڑھ کر ہونا چاہیئے۔ 15 اگست 1947ء نے ہمیں نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی دلائی، لیکن 26 جنوری 1950ء نے ہمیں آزادی کے ساتھ اس آزادی کو جینے کا آئینی حق دیا جس میں خیالات اور مذہب کی آزادی کی ضمانت دی گئی اور سب سے بڑھ کر ووٹ ڈالنے کا اختیار۔ ہمارے آئین نے ان اقدار کے تحفظ کے لئے مضبوط ادارے بنائے، آج ان میں سے بہت سے اداروں کو ہندوستان کے تصور کو کمزور کرنے کے لیے ہتھیار بنایا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یوم جمہوریہ چودھری نے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع