اب حد ہوگئی؛ امریکا کے مزید احکامات نہیں مان سکتے؛ عبوری صدر وینزویلا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
صدر مادورو کی اہلیہ سمیت امریکی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر نیویارک منتقلی کے بعد وینزویلا کی عبوری حکمراں بننے والی ڈیلسی روڈریگز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے تیل پر لگائی جانی والی پابندیوں کے تناظر میں عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے تیل کی کمپنیوں کے کارکنوں سے خطاب کیا۔
وینزویلا کی نگراں صدر ڈیلسی روڈریگز نے پہلی بار سخت لہجے میں کہا کہ بس بہت ہوگیا، امریکا احکامات کی حد ہوگئی۔ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
انھوں نے زور دیکر کہا کہ وینزویلا کو غیر ملکی طاقتوں کی بار بار مداخلت کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے اور اب مزید کی سکت نہیں رہی ہے۔
وینزویلا کی عبوری صدر نے کہا کہ بیرونی دباؤ اور مداخلت رک جائے تو ہم ملک میں خود نہ صرف امن و استحکام قائم کرسکتے ہیں بلکہ ہر بحران سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گزشتہ ماہ امریکی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے صدارتی محل سے اہلیہ سمیت گرفتار کیا تھا۔
امریکی اہلکار وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈ روم سے گھسیٹتے ہوئے ہیلی کاپٹر تک لے گئے اور بحری جہاز تک پہنچایا۔
بحری جہاز سے طویل سفر طے کرکے وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو امریکا پہنچایا گیا اور نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
امریکی عدالت میں وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ پر منیشات اسمگلنگ اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزام میں سماعت ہوئی۔
صدر نکولس اور ان کی اہلیہ نے تمام الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری نہیں بلکہ اغوا ہے جس کا مقصد وینزویلا کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر کی اہلیہ کہا کہ
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں