سونا تاریخ میں پہلی بار 5 ہزار ڈالر سے تجاوز کرگیا۔
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا تاریخ میں پہلی بار 5 ہزار ڈالر سے تجاوز کرگیا۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.79 فیصد اضافے کے ساتھ 5,071.96 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 5,085.50 ڈالر کی سطح کو بھی چھو گئی۔امریکی فیوچر مارکیٹ میں فروری کے لیے سونے کے سودے بھی 1.79 فیصد بڑھ کر 5,068.70 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔ گزشتہ سال 2025 میں سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 64 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجوہات میں محفوظ سرمایہ کاری کی مسلسل طلب، امریکی مالیاتی پالیسی میں نرمی، مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں ریکارڈ سرمایہ کاری شامل ہیں۔ چین نے دسمبر میں مسلسل چودھویں ماہ سونے کی خریداری جاری رکھی، جبکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک قیمتوں میں 17 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی اتحادیوں پر گرین لینڈ سے متعلق دباؤ اور مختلف ممالک پر بھاری ٹیرف کی دھمکیوں نے بھی عالمی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھایا ہے۔ حالیہ بیانات میں انہوں نے کینیڈا پر چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کی صورت میں 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی، جبکہ فرانس پر بھی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف کی بات کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان اقدامات نے سرمایہ کاروں کو مزید محتاط بنا دیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسیوں میں غیر متوقع تبدیلیوں نے سرمایہ کاری کے روایتی طریقوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے باعث سونا ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ دھاتوں کی عالمی تحقیقاتی فرم میٹلز فوکس کے ڈائریکٹر فلپ نیومین کے مطابق توقع ہے کہ رواں سال کے دوران سونے کی قیمتیں 5,500 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہیں، اگرچہ منافع خوری کے باعث وقتی اتار چڑھاؤ بھی آ سکتا ہے۔ دوسری قیمتی دھاتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اسپاٹ چاندی 4.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈالر فی اونس
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔