انسان جلد ہی 150 برس تک زندہ رہ سکیں گے: ماہرِ جینیات
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ماہرِ جینیات کا کہنا ہے کہ بائیولوجیکل کلاک (انسان کے اندر چلنے والی گھڑی کا ایک نظام) اور ری جووینیشن تحقیق سے متعلقہ کامیابیوں کے بعد انسان 150 برس تک زندہ رہ سکیں گے۔
ماہرِ جینیات اسٹیو ہوروت نے ایک موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت آئے گا جب 150 برس تک زندہ رہنا ایک حقیقت ہوگی۔ البتہ، وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ یہ کب ہوگا۔
اسٹیو ہوروت نے اقدامات میں پیشرفت ممکنہ طور پر حیاتیاتی عمر کے عمل کو پلٹانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہوگا۔
ہوروت کے مطابق حیاتیاتی عمر کی نہایت درست انداز میں پیمائش کی صلاحیت نے طویل العمری کی تحقیق میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس سے سائنس دانوں کو یہ جانچنے کا موقع ملا ہے کہ آیا علاج واقعی بڑھاپے کے عمل کی رفتار کو کم کر سکتے ہیں (یا اسے الٹ بھی سکتے ہیں) بجائے اس کے کہ وہ محض بیماریوں کا علاج کریں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی دوا کی افادیت ثابت کرنے سے پہلے جو واقعی زندگی کو طول دے، عمر بڑھنے کے عمل کی پیمائش کے قابلِ اعتماد طریقوں کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔