حکومت بلوچستان مزید نوکری اور مراعات نہیں دے سکتی، جان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سابق نگران وزیر کا کہنا ہے کہ صوبے میں ترقی کیلیے بجٹ کا 20 فیصد بچتا ہے، اور اگر وہ بھی تنخواہوں میں ڈال دیا جائے تو عوام کیلیے کچھ نہیں بچے گا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے سابق نگران وزیر جان اچکزئی نے بلوچستان کے ملازمین کی جانب سے ڈی آر اے کے لئے جاری احتجاج کو صوبے کے مستقبل کے لئے نقصان دہ قرار دے دیا۔ اپنے ویڈیو پیغامم میں جان اچکزئی نے حکومتی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا 80 فیصد بجٹ صرف تنخواہوں اور پنشنز میں خرچ ہو جاتا ہے۔ ترقی کے لیے صرف 20 فیصد بچتا ہے، اور اگر وہ بھی تنخواہوں میں ڈال دیا جائے تو عوام کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ بلوچستان کی اپنی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے، زیادہ تر وفاقی امداد پر چلتا ہے۔ ایسے میں پنجاب یا اسلام آباد جیسی مراعات مانگنا حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ حکومت مزید سرکاری نوکریاں فراہم نہیں کر سکتی، کیونکہ موجودہ ڈھانچہ پہلے ہی غیر پائیدار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ صوبہ اسکولوں اور ہسپتالوں کی عمارتوں سے بھرا ہوا ہے، مگر اساتذہ اور ڈاکٹر اکثر غائب رہتے ہیں۔ اگر وہی توانائی جو احتجاج میں لگائی جا رہی ہے، کلاس رومز اور وارڈز میں لگتی تو بلوچستان کا حال مختلف ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ مہنگائی سب کے لیے مسئلہ ہے، مگر اس کا حل یہ نہیں کہ ترقیاتی بجٹ ختم کرکے صرف تنخواہوں پر خرچ کیا جائے۔ اگر آج حکومت دباؤ میں آ کر مطالبات مان لے، تو کل بلوچستان کے پاس نہ اسکول بنانے کے پیسے ہوں گے، نہ ہسپتال چلانے کا بجٹ، نہ سڑک بنانے کی سکت ہوگی۔ چند فیصد ملازمین پورے عوام کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اصل انصاف یہ ہے کہ وسائل عوامی ترقی پر لگیں، نہ کہ صرف مراعات پر خرچ ہوں۔ انہوں نے ملازمین کے احتجاج کے خلاف حکومتی اقدامات کو بلوچستان کے وسیع تر مفادات میں قرار دیتے ہوئے سرکاری ملازمین سے فرائض پر واپس جانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ عوام آپ سے خدمت چاہتے ہیں، احتجاج نہیں۔ حکومت مزید نوکریاں یا غیر پائیدار مراعات نہیں دے سکتی، مگر جب آپ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو بلوچستان کے عوام آپ کو عزت اور اعتماد ضرور دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان کے انہوں نے
پڑھیں:
پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
فوٹو: فائلپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔
پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔