بلوچستان کے کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد ہونے لگے ہیں اور صوبے میں فٹبال سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے 63 فٹبالرز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس میں 12 خواتین کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت 6 رکنی غیر ملکی کوچنگ ٹیم کوئٹہ پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں آل بلوچستان اسپورٹس فیسٹیول کا دنگل، خواتین کھلاڑی پہلی بار شریک

کوچنگ ٹیم جدید اور پروفیشنل ٹریننگ سیشنز کے ذریعے نوجوان فٹبالرز کی فنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی معیار تک لے جانے میں کردار ادا کرے گی۔

غیر ملکی کوچز کی نگرانی میں ہونے والی یہ تربیت کھلاڑیوں کی تکنیکی مہارت، جسمانی فٹنس اور کھیل کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے کھیل کے میدانوں میں ایک بار پھر رونق لوٹ رہی ہے، جو صوبائی حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔

مزید پڑھیں: سونیا مصطفیٰ نے پہلی خاتون فیفافٹبال ریفری بن کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا

انہوں نے کہا کہ جدید تربیتی سیشنز سے کھلاڑیوں کے حوصلے، اعتماد اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کھلاڑیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ صوبے کا مثبت تشخص اجاگر ہو اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان فٹبال کھیل کوئٹہ میر سرفراز بگٹی وزیر اعلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان فٹبال کھیل کوئٹہ میر سرفراز بگٹی وزیر اعلی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار