اسمارٹ گلاسز کا خطرناک استعمال، خواتین سوشل میڈیا پر ہراسانی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
دیلارا اپنے کام کی دکان میں دوپہر کے وقفے پر تھیں جب ایک لمبے قد کا مرد ان کے پاس آیا اور کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں سرخ بالوں کا مطلب ہے کہ آپ حال ہی میں دل ٹوٹا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا پھر اسمارٹ چشمے لانے کا اعلان، کیا یہ کاوش کامیاب ہوجائے گی؟
مرد نے گفتگو جاری رکھی اور دونوں لفٹ میں چلے گئے اور اس نے دیلارا سے فون نمبر مانگا۔ دیلارا کو اندازہ نہیں تھا کہ مرد نے اس کو اپنے اسمارٹ گلاسز سے چھپ کر فلم کیا تھا جو عام عینک کی طرح دکھائی دیتے ہیں مگر چھوٹا کیمرا رکھتے ہیں جو ویڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔
یہ ویڈیو بعد میں ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی اور اسے 13 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے 21 سالہ دیلارا نے میں بس رو دینا چاہتی تھی۔
پتا چلا کہ اس ویڈیو میں اس کا فون نمبر بھی دکھایا گیا تھا جس کے بعد اسے مسلسل کالز اور پیغامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح 56 سالہ کم کو بھی ایک مختلف مرد نے پچھلے موسم گرما میں ویسٹ سسیکس کے ساحل پر اسمارٹ گلاسز سے فلم کیا۔
مرد نے کم کی بیکنی کی تعریف کرتے ہوئے بات چیت شروع کی اور اس کے ذاتی اور کام کی معلومات حاصل کیں۔ بعد میں اس نے یہ ویڈیوز آن لائن پوسٹ کیں جو لاکھوں ناظرین تک پہنچیں۔
بی بی سی نے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ایسے سینکڑوں چھوٹی ویڈیوز دیکھی ہیں جو مختلف مرد انفلوئنسرز نے پوسٹ کی ہیں۔
یہ انفلوئنسرز خواتین کو قریب لانے کے طریقے سکھانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور زیادہ تر ویڈیوز چھپ کر فلم کی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیے: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟
برطانیہ میں عوامی جگہ پر بغیر اجازت کسی کو فلم کرنے کے لیے کوئی مخصوص قانون موجود نہیں تاہم پرائیویسی کے ماہر جیمی ہر ورتھ کا کہنا ہے کہ عوامی جگہ میں ہونا اس کا مطلب نہیں کہ کسی کو فلم کرنا اور پھر ویڈیو آن لائن ڈالنا جائز ہے۔
ٹک ٹاک نے ابتدائی طور پر ویڈیو پر کوئی خلاف ورزی نہیں پائی مگر بی بی سی کی تحقیقات کے بعد ویڈیو ہٹا دی گئی اور کہا گیا کہ ہراساں کرنے والی ویڈیوز کمیونٹی گائیڈ لائنز کے تحت ہٹائی جائیں گی۔
وزیر برائے خواتین کی حفاظت جیس فلپس نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چھپ کر فلمنگ قابل مذمت ہے اور ہم کسی کو اس سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔
مزید پڑھیں: ایمیزون نے ڈرائیورز کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے
دیلارا نے بتایا کہ فون نمبر کی وجہ سے اسے کئی ہفتوں تک رات کے وقت بھی مسلسل کالز اور پیغامات آئے۔ کم اور دیلارا دونوں کا کہنا ہے کہ اس طرح فلم کیے جانے سے وہ استحصال اور ذاتی حدود کی خلاف ورزی محسوس کرتی ہیں اور قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
پرائیویسی ماہر اور قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی ویڈیوز موجودہ قوانین کے تحت واضح طور پر غیر قانونی نہیں ہو سکتیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خواتین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
کم نے کہا کہ کسی کو دوسروں کو بغیر اجازت فلم کرنے اور اس سے منافع کمانے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: شاپنگ کے شوقینوں کے لیے بڑی خبر، اب جلد اے آئی آپ کے لیے خریداری اور پیمنٹ کرے گی
دیلارا اور کم کا کہنا ہے کہ اس تجربے نے ان کے اعتماد کو توڑ دیا ہے اور وہ اب ہر کسی پر یقین کرنے میں محتاط ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمارٹ چشموں کا غلط استعمال اسمارٹ چشمے اسمارٹ گلاسز اسمارٹ گلاسز اور سیکریٹ فلمنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسمارٹ چشموں کا غلط استعمال اسمارٹ گلاسز اسمارٹ گلاسز اور اس فلم کی کسی کو کے لیے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔