سپر ٹیکس کو مختلف ہائیکورٹس میں چیلینج کرنے والے 150 درخواست گزاران کی فہرست عدالت میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کردیا گیا، چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔
کیس کی سماعت کے دوران ایف بی آر وکیل عاصمہ حامد نے سپر ٹیکس کو مختلف ہائیکورٹس میں چیلینج کرنے والے 150 درخواست گزاران کی فہرست عدالت میں پیش کردی۔
عاصمہ حامد نے مؤقف اپنایا کہ جب ایک ہائی کورٹ قانون کی شقوں کو درست قرار دے دے ، تو اس قانون کو دوسری ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، اب بھی فوجی فرٹیلائزرز کی جانب سے رٹ پٹیشنز دائر کی جا رہی ہیں تاکہ اپنی کا مرضی کا فیصلہ لیا جا سکے، درخواست گزاروں کی جانب سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا گیا۔
وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ قانونی تقاضے عدالتی کارروائی کے دوران ہوتے قانون سازی کے عمل میں نہیں ہوتے، قانون سازی کے عمل میں ٹیکس سے پہلے ٹیکس پیئر کو سنا جانا ضروری نہیں ہے، اس کیس میں درخواست گزاروں کی جانب سے امریکی سپریم کورٹ کی مثالیں دی جاتی رہیں، ہر ملک کا اپنا آئین ہوتا ہے۔
وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں ٹیکس کے ماضی سے اطلاق کو درست قرار دیا تھا، اس وقت 29 فیصد نارمل ٹیکس لاگو ہے، سپر ٹیکس 10 فیصد اور قانون میں لکھ دیا گیا اور یہ ادائیگی کے قابل ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ شیئرز پر جو کام کرتے ہیں اور بینکوں سے قرض لیتے ہیں اور بینکوں کو بھی سود دیتے ہیں اخراجات میں سے وہ بھی نکالیں گے ؟ میں نے خود سوال کیا تھا کہ اگر سرمایہ کاری کرنی ہے تو اپنوں پیسوں سے کریں۔
وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ اس حوالے سے ٹیکس آرڈیننس کے آٹھویں شیڈول میں واضح ہے ، اس کو کسی نے چیلنچ ہی نہیں کیا، ایف بی آر وکیل عاصمہ حامد کے دلائل مکمل ، ایف بی آر وکیل حافظ احسان کھوکھر وقفے کے بعد دلائل دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ سپر ٹیکس
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔