لاہور:

 چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہاکہ صوبوں کو وفاق کی نسبت زیادہ ٹیکس وصول کرنا پڑے گا، تعلیم اور صحت صوبوں کے پاس ہیں، ریاست کا کام ہے کہ ٹیکس وصولی کرے اس میں چند کام صوبے کرتے ہیں۔

تھینک فیسٹ کے تیسرے اور آخری روز این ایف سی ایوارڈ پر مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا صوبوں کے پاس زرعی انکم ٹٰیکس، خدمات پر سیلز ٹیکس اور پراپرٹی ٹٰیکس وصولی کا اختیار ہے، یہ 2.

5 فیصد ہونا چاہئے،باقی 12.5فیصد وفاق نے وصول کرنا تھا لیکن وفاق 11.4فیصد وصول کررہا ہے۔ ٹٰیکس وصولی کی شرح18فیصد ہونی چاہئے۔

زرعی انکم ٹیکس وصولی کی صلاحیت 3.5ٹریلین ہے لیکن یہ چھ ارب روپے کے قریب اکٹھا کیا جاتا ہے۔ بھارت میں ٹیکس وصولی کی شرح ہم سے زیادہ ہے۔ صوبوں کو پیسہ ملنا انکا حق ہے، بہت سے ٹیکسز مختلف لیول پر لینا ممکن نہیں ہے۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل نے کہا وفاق کا یہ موقف ہے کہ ان کے پاس پیسے نہیں بچتے جس پر اسے قرض لینا پڑتا ہے اور ٹیکس بھی بڑھانا پڑتا ہے۔ صوبوں کو پیسے کم دینے چاہئیں، صرف وفاق کو پیسے دینا کوئی حل نہیں ہے۔

صوبوں کو جو پیسے ملے ہیں وہ لوکل گورنمنٹ کو جانے چاہئیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ وفاق نے اپنی ترمیم کے مطابق ماحولیات اور خوراک کی وزارتیں ختم نہیں کیں۔ صوبوں کی کارکردگی کو دیکھنا ہوگا۔ وفاق اور صوبوں کو مل کرکام کرنا چاہئے۔ ماہر معیشت سہیل نقوی نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بہت ساری ذمہ داریاں دی گئیں، صوبوں میں اضافی وسائل کی تقسیم اور صحت، تعلیم کیلئے وسائل مختص کرنے کے بارے میں ایک تعلق ہے۔کئی صوبوں کی کارکردگی اچھی ہوئی کئی ایک کی خراب ہوگئی ہے۔

سب سے اچھی کارکردگی صوبہ بلوچستان کی ہے۔ جب وسائل پورے نہیں ہوتے ہیں اس میں ٹیکس کی شرح بڑھا دی جاتی ہے۔ صوبوں کو وسائل کم دینے چاہئیں۔ ٹیکسوں میں کمی کی جائے۔وسائل کی تقسیم کو کارکردگی سے جوڑا جائے۔ ممبر این ایف سی اسد سعید نے کہا اگر وفاقی حکومت بھی جی ڈی پی بہتری کےلئے کام نہ کر سکے تو اس کا بھی فنڈ کاٹنا چاہئے۔ صوبوں پر وسائل زیادہ کرنے کا پریشر نہیں ہے۔ فاٹا انضمام کے بعد صوبے کی ذمہ داریاں اور رقبہ بڑھ گئے مگر مالی تلافی نہیں ہوئی۔ صوبائی شیئر میں کمی ہوئی۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ٹیکس وصول صوبوں کو

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن