اسلام آباد: بیلجیم کے عالمی شہرت یافتہ فوٹو جرنلسٹ کی کشمیر پر تصویری کتاب کی نمائش کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بیلجیم کے عالمی شہرت یافتہ فوٹو جرنلسٹ سدرک گربہائے کی جموں و کشمیر پر مبنی تصویری کتاب ’کشمیر ویٹ اینڈ سی‘ کی نمائش اسلام آباد میں شروع ہو گئی ہے۔ یہ نمائش نیشنل آرٹس کونسل میں 28 جنوری تک جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں: بھارت کا یوم جمہوریہ: کشمیری آج پوری دنیا میں یوم سیاہ منا رہے ہیں
افتتاحی تقریب میں سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، سینیٹر مشاہد حسین سید، اعلیٰ سیاسی و سماجی شخصیات، سفارتکار، دانشور اور طلبا نے شرکت کی۔ نمائش میں بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی زندگی، جدوجہد اور ثقافت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
کتاب کی تعارفی تقاریب 29 تا 31 جنوری مظفرآباد، یکم تا 3 فروری میرپور اور 5 تا 8 فروری لاہور میں بھی منعقد ہوں گی۔ کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید کے مطابق یہ کتاب کشمیری عوام کے حقوق اور ثقافت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Gerbehaye’s ‘Wait and See Kashmir بیلجیم سدرک گربہائے عالمی شہرت یافتہ فوٹو جرنلسٹ کشمیر: ویٹ اینڈ سی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیلجیم سدرک گربہائے کشمیر ویٹ اینڈ سی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔