data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سیکریٹری جنرل مولانا غفور حیدری نے گھریلو تشدد بل اور کم سنی کی شادیوں سے متعلق قانون سازی کی مخالفت کی وجوہات واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوانین نہ صرف غیر شرعی اور غیر آئینی ہیں بلکہ ملک کے خاندانی نظام کے بھی منافی ہیں، ایسی قانون سازی سے والدین کو بلیک میل کیا جائے گا اور معاشرے میں انتشار پیدا ہوگا۔

مولانا غفور حیدری نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا جبکہ شادی اور خاندانی معاملات سے متعلق حالیہ بلز آئین اور اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں، حکومت کی جانب سے شادی سے متعلق بل پاس کرنا نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ سنت نبویؐ کے بھی خلاف ہے۔

جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل نے گھریلو تشدد بل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی آڑ میں والدین کے قدرتی اور شرعی اختیارات کو محدود کر دیا جائے گا، بل میں ایسی شقیں شامل ہیں جن کے تحت والدین اپنے بچوں کو ڈانٹنے یا سمجھانے تک سے محروم ہو جائیں گے، اگر یہ قانون نافذ ہو گیا تو بچوں کی اصلاح کے لیے کی جانے والی ڈانٹ ڈپٹ بھی قابلِ جرم قرار دی جائے گی، جس سے خاندانی نظم و ضبط بری طرح متاثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون سازی کے بعد نہ صرف والدین بلکہ بڑا بھائی بھی چھوٹے بھائی کو نصیحت کرنے سے قاصر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے قوانین خاندان کے اندر احترام اور ذمہ داری کے رشتے کو کمزور کریں گے اور معاشرے میں بداعتمادی کو فروغ دیں گے،قانون کے نفاذ کے بعد پولیس اسٹیشنز میں بچوں کی جانب سے والدین کے خلاف شکایات درج کرائی جائیں گی، جس کے نتیجے میں والدین جیلوں میں ہوں گے اور خاندانی نظام مزید تباہی کا شکار ہو جائے گا۔

کم سنی کی شادیوں سے متعلق قانون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام نے نکاح کے حوالے سے واضح اصول دیے ہیں، جنہیں نظرانداز کر کے قانون سازی کرنا ناقابلِ قبول ہے، مغربی طرز کے قوانین کو زبردستی اسلامی معاشرے پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے جے یو آئی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

مولانا غفور حیدری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ قانون سازی سے قبل دینی جماعتوں، علما اور مذہبی طبقات کو اعتماد میں لے اور ایسے قوانین بنانے سے گریز کرے جو قرآن و سنت سے متصادم ہوں،جے یو آئی خاندانی نظام کے تحفظ اور اسلامی اقدار کے دفاع کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور عوام کو بھی ان قوانین کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا غفور حیدری جے یو آئی جائے گا کہا کہ

پڑھیں:

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

زیرِ زمین عسکری نیٹ ورک

قشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔

ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرِ زمین ’میزائل سٹیز

ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخ

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذ

قشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔

ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کا قشم جزیرہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد