لاہورہائیکورٹ، عدالتی حکم عدولی پر سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
(نیوزڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے شناختی کارڈ منسوخی کیس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر جواب طلب کر لیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا کے خلاف دریا خان کی جانب سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی منسوخی کے بعد افغان نژاد خاندان کی زیر التوا درخواست کا فیصلہ کرنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت میں اذان کے متاثرہ خاندان کی جانب سے چودھری شعیب سلیم ایڈووکیٹ پیش ہوئے، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست گزار نے قبل ازیں رٹ پٹیشن نمبر 22039/2025 کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ پر مبینہ طور پر افغان شہری ہونے کی وجہ سے اپنے خاندان کے CNICs کی منسوخی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے حکم مورخہ 15 اپریل 2025 میں سیکرٹری وزارت داخلہ محمد خرم آغا کو ہدایت کی تھی کہ درخواست گزار کی درخواست کو سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد ترجیحی طور پر 30 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا تھا کہ اُسے ہراساں نہ کیا جائے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود عدالت کی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہوا، سی این آئی سی کی مسلسل منسوخی سے انہیں مشکلات پیش آ رہی ہیں، بشمول جائیداد کی خرید و فروخت، کاروبار کا انعقاد، بینکنگ لین دین سمیت دیگر قانونی مسائل کا سامنا ہے جبکہ متعدد بار اُس نے دفتر جاکر عدالتی حکم نامے کی مصدقہ کاپی فراہم کی، تاہم کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر سیکرٹری وزارت داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: درخواست گزار عدالتی حکم
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔