نفرت پھیلانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو گی، نگران وزیر داخلہ گلگت بلتستان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ساجد علی بیگ نے گلگت میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بطور وزیر داخلہ اعلان کرتا ہوں کہ کسی بھی شخص نے سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئیگا اور ریاست ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیگی۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیر داخلہ گلگت بلتستان ساجد علی بیگ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ اگر امن ہوگا تو علاقے میں تعمیر و ترقی ممکن ہو گی۔ ہم محدود وقت اور محدود وسائل کے باوجود عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ گلگت میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نوجوان سوشل میڈیا کو مثبت مقاصد کیلئے استعمال کریں، ایک دوسرے کے مقدسات اور جذبات کا احترام کریں، کیونکہ معاشرے میں نفرت پھیلانے والوں کے ساتھ آئندہ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ خود اختیار کریگا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں قیام امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بطور وزیر داخلہ اعلان کرتا ہوں کہ کسی بھی شخص نے سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئیگا اور ریاست ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیگی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال عوامی مفاد میں کرنا ضروری ہے تاکہ لوگوں کے درمیان غلط فہمیوں اور تشویش کے بجائے ایک تعمیری ماحول قائم ہو سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والے نفرت انگیز مواد کی فوری نگرانی کریں اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ وزیر داخلہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ایسی پوسٹ یا پیغام کو شیئر کرنے سے گریز کریں جو کسی بھی فرد، گروہ یا مذہب کے خلاف ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نفرت پھیلانے گلگت بلتستان سوشل میڈیا وزیر داخلہ کسی بھی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔