کم عمری کی شادی کے قانون پر حافظ حمداللہ کا متنازع بیان، 16 سالہ لڑکی سے شادی کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کم عمری کی شادیوں سے متعلق قانون سازی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایک متنازع بیان دے دیا ہے، جس کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمد اللہ نے کہا کہ اگر انہیں غصہ آیا تو وہ 16 سالہ لڑکی سے شادی کر لیں گے اور ایسے کسی قانون کو تسلیم نہیں کریں گے جو ان کے بقول قرآن و سنت کے منافی ہو۔
حافظ حمد اللہ نے کہا کہ وہ سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن کو مشورہ دیتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جائے، جن میں ایسے نوجوانوں کی شادیاں کی جائیں جو بالغ ہو چکے ہوں مگر ان کی عمریں 18 سال سے کم ہوں، اسلامی شریعت میں نکاح کے لیے بلوغت شرط ہے، عمر کی حد مقرر کرنا غیر اسلامی ہے۔
جے یو آئی (ف) کے رہنما نے کہا کہ اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف ہو تو وہ اسے ماننے کے پابند نہیں، ہم اس قانون کو پاؤں تلے روندیں گے کیونکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، ان کے نزدیک ریاستی قوانین کی حیثیت اسی وقت قابل قبول ہے جب وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں۔
اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ حمد اللہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر دوسری شادی یا دوسرے نکاح کے موڈ میں نہیں ہیں اور ایک شادی کو ہی کافی سمجھتے ہیں، تاہم ان کے بقول اگر غصہ آیا تو وہ خود بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کریں گے۔ ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر بھی وسیع پیمانے پر زیر بحث لایا جا رہا ہے۔
ابھی تک جے یو آئی (ف) کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے حافظ حمد اللہ کے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ مزید بحث اور تنقید کا باعث بنتا دکھائی دے رہا ہے، آنے والے دنوں میں اس بیان پر نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ عوامی سطح پر بھی گرما گرم گفتگو متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ حمد اللہ نے نے کہا کہ
پڑھیں:
رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔
پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔
دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :