Islam Times:
2026-07-24@14:30:38 GMT

مشرق وسطیٰ، مجھے خوف جنگ سے نہیں!

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

مشرق وسطیٰ، مجھے خوف جنگ سے نہیں!

اسلام ٹائمز: مجھے جیسے لوگوں کیلئے حسینؑ جب صرف شہید ہوں تو قابلِ محبت ہوتے ہیں، مگر جب زندہ ہوں تو ناقابلِ برداشت، کیونکہ زندہ حسینؑ روکتے اور ٹوکتے ہیں۔ وہ نہ غیرجانبداری کی اجازت دیتے ہیں، نہ بےقیمت ایمان کی۔ وہ یا تو انسان کو بدل دیتے ہیں، یا نیا بنا دیتے ہیں اور میں ان دونوں کاموں سے خوف زدہ ہوں۔ امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھ کر میں خوف زدہ ہوں۔ امریکہ سے نہیں حسینؑ سے خوف زدہ ہوں۔ مجھے خوف جنگ سے نہیں، مجھے خوف اس بات سے ہے کہ کہیں حسینؑ کا استغاثہ مجھے دوبارہ نہ سنائی دے جائے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے خوف ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ جیسے ہی میں اس امریکی بحری بیڑے کو یزید کی جدید صورت میں پہچان لوں گا، ویسے ہی مجھے اپنی خاموشی کو بھی توڑنا پڑے گا۔ میرے لئے مسئلہ یہ نہیں کہ بحرِ ہند میں بحری جہاز کیوں پہنچ گئے، مسئلہ یہ ہے کہ میرے ضمیر کے ساحل پر کب سے خاموشی کا پہرہ لگا ہوا ہے۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب میں یہ خبر سنتا ہوں کہ ایران سے کشیدگی کے نام پر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، بحری بیڑا بحرِ ہند تک آ پہنچا ہے، طیارہ بردار جہاز، جنگی طیارے، ہزاروں اضافی فوجی اور العدید ایئر بیس ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گیا ہے تو مجھے حیرت نہیں ہوتی۔ طاقتور جب خوف زدہ ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہتھیار حرکت میں آتے ہیں، دلیل نہیں۔ یہی تو یزید یوں کا پرانا وطیرہ ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ صہیونی لے پالک میڈیا  مجھے محض جغرافیائی تجزیہ فراہم کرتا ہے، اخلاقی و دینی جرات نہیں۔ میں خبریں سنتا ہوں اور اسے ’’خطے کی صورتحال‘‘ کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہوں، جیسے یہ محض شطرنج کی بساط ہو۔ کچھ بحری جہاز، کچھ فضائی اثاثے، پانچ ہزار سات سو اضافی اہلکار اور ان اعداد و شمار کے  نتیجے میں جو انسان، بستیاں، مائیں اور بچے اُجڑیں گے مجھے اُن سے کوئی سروکار نہیں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب امریکی صدر ایران کے اندرونی احتجاج کو جواز بنا کر ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دیتا ہے تو میرا جمہوریت، امن، استحکام اور سلامتی جیسے الفاظ سے میرا اعتماد اٹھ جاتا ہے، میں اس بداعتمادی کے باوجود  امریکہ کو سامراج کہنے سے ہچکچاتا ہوں، کیونکہ اگر ایک مرتبہ سچ بول دیا تو تو پھر میرا سکون خطرے میں پڑ جائے گا۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ وہی فضا ہے جو گزشتہ برسوں میں بھی تھی۔ وہی تناؤ، وہی نقل و حرکت، وہی عالمی بےچینی اور میں تب بھی تماشائی تھا، آج بھی ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ طاقتور کیسے جمع ہوتے ہیں لیکن میں یہ نہیں پوچھتا کہ ان کا رخ کس طرف ہے، کیونکہ رخ کا سوال آخرکار مجھے کسی ایک طرف کھڑا ہونے پر مجبور کر دیتا ہے، اور میں غیرجانبداری کو آج بھی اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھتا ہوں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر حسینؑ آج ہمارے درمیان ہوتے تو وہ اس بحری بیڑے کو دیکھ کر خاموش نہ رہتے۔ وہ یہ نہ پوچھتے کہ یہاں پر امریکا کیا کر رہا ہے بلکہ وہ یہ پوچھتے کہ اس کے مقابلے کیلئے تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تم اس پیش قدمی کو ’’اسٹریٹجک موو‘‘ کہہ کر قبول کر رہے ہو؟ کیا تم بموں کو امن اور فوجی اڈوں کو استحکام کا نام دے کر مطمئن ہوگئے ہو؟یا پھر تم نے بھی، میری طرح، حساب کتاب کو اصولوں پر ترجیح دے دی ہے؟

یقین جانئے! مجھ جیسے لوگوں کو امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں مسئلہ حسینؑ سے ہے۔ حسینؑ جو خاموش نہیں رہتے، جو سوال کرتے ہیں، جو مجھ سے بیعت مانگتے ہیں۔ امریکہ سے مجھے کوئی خطرہ نہیں لیکن حسینؑ سے مجھے خطرہ ہے، کیونکہ میرا سکون داؤ پر لگتا ہے اور مجھ جیسے لوگ اپنے سکون کو بچانے کے لیے ہی تو غلط راستوں اور غلط دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ اگر آج وقت کا حسینؑ ظہور کرے تو میں خوش نہیں بلکہ مضطرب ہوجاؤں گا۔ ان کی موجودگی سے میرے آرام میں خلل پڑے گا، اور میری بساط اُلٹ جائے گی۔ وہ مجھے یہ اجازت نہیں دیں گے کہ میں بیک وقت نیک بھی دکھائی دوں اور محفوظ بھی رہوں، اس لیے کہ جرات ہمیشہ ٹکراؤ کا باعث بنتی ہے۔ حسینؑ میرے لیے مسئلہ ہیں، اس لیے کہ وہ مجھے بدلنا چاہتے ہیں، اور انسان کو سب سے زیادہ خوف اپنی تبدیلی سے آتا ہے۔

مشرقِ وسطی ٰ کے میدان میں آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں حق کو اس وقت تنہا نہیں چھوڑتا کہ جب وہ کمزور ہوتا ہے بلکہ اس وقت بالکل چھوڑتا ہوں جب وہ مہنگا پڑتا ہے۔ میں اصولوں کا نہیں، حساب کتاب و نفع نقصان کا آدمی ہوں۔ مجھے وہ سچ پسند ہے جو نفع دے، اور وہ حق قابلِ قبول ہے جو نقصان نہ مانگے۔ جہاں قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، وہاں میں تاویلیں تراشتا ہوں، مصلحتوں کے پردے لٹکاتا ہوں، اور ضمیر کو خاموش کر دیتا ہوں، کیونکہ ضمیر جاگتا رہے تو زندگی آسان نہیں رہتی۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اپنے خوف کو عقلمندی کا نام دیا ہوا ہے، اپنی بزدلی کو حکمت کا لبادہ اوڑھا رکھا ہے، اور اپنی پسپائی کو مصلحت کہتا ہوں۔ میں نے  لوگوں کے سامنے اپنی بے جا خاموشی کو شرافت اور بےعملی کو دینداری بنا کر پیش کیا ہوا ہے۔ میرے  انہی خوش نما لفظوں نے ظلم کو  عام اور ظالموں کو مضبوط کیا ہوا ہے اور انہی مہذب اصطلاحوں سے ہر دور میں ایک خاموش، منظم اور باقاعدہ کربلا وجود میں آتی ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر میں کربلا میں ہوتا تو نہ حسینؑ کے خیمے میں ہوتا، نہ یزید کے لشکر میں۔ میں تو کنارے کھڑا غیرجانبدار کہلاکر یزید کی مدد کرتا کیونکہ ظالموں کے مددگاروں کیلئے غیرجانبداری ایک اچھی اصطلاح ہے۔ میرے حالات بتا رہے ہیں کہ میں اگر دس محرم الحرام ۶۱ ھجری میں موجود ہوتا تو انتظار کرتا کہ انجام کیا ہوتا ہے، فتح کس کی ہوتی ہے، تاریخ کس کے حق میں لکھی جاتی ہے، کیونکہ میں حق کو نہیں، نتیجے کو ماننے کا عادی ہوں۔ میں انتظار کرتا اور جب سب کچھ ختم ہو جاتا، تو میں آنسو بہانے والوں میں سب سے آگے ہوتا، یہ کہتا ہوا کہ دل تو شروع سے حسینؑ کے ساتھ تھا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے دین وہاں تک عزیز ہے جہاں تک وہ مجھے بےنقاب نہ کرے۔ وہ دین جو میری خاموشی پر سوال اٹھائے، میری مصلحت کو بے نقاب کرے، اور مجھے حق اور فائدے کے درمیان کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کرے، وہ دین مجھے ناگوار گزرتا ہے۔ مجھے عبادت پسند ہے، ذمہ داری نہیں کیونکہ ذمہ داری انسان سے اس کا عذر چھین لیتی ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر حسینؑ آج آجائیں تو میں انہیں خاموش کرانا چاہوں گا۔ تلوار سے نہیں، تہذیب سے، مخالفت سے نہیں، مصلحت سے، یہ کہہ کر کہ حالات نازک ہیں، وقت مناسب نہیں، وحدت خطرے میں ہے۔ میں وہی کروں گا جو ہر دور میں سچ بولنے والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اگر حسینؑ آ جائیں تو میرا اُن کے حوالے سے کوئی مؤقف نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی تو ایک گول مول سا موقف۔ اسی لئے تو  میں نے کربلا کو ایک رسم بنا دیا ہے تاکہ مجھے کسی موقف کی ضرورت نہ پڑے۔ میں نے آنسوؤں کو جنت کا بدل بنایا، ماتم کو قیام کا بدل، اور مجلس کو انقلاب کا بدل۔ یوں میں نے خود کو مطمئن بھی کر لیا اور خود کو دیندار بھی سمجھ لیا، بغیر کچھ بدلے، بغیر کچھ دیے، کیونکہ علامتیں اختیار کرنا آسان ہے، اور کردار  تبدیل کرنا مشکل۔

مجھے جیسے لوگوں کیلئے حسینؑ جب صرف شہید ہوں تو قابلِ محبت ہوتے ہیں، مگر جب زندہ ہوں تو ناقابلِ برداشت، کیونکہ زندہ حسینؑ  روکتے اور ٹوکتے ہیں۔ وہ نہ غیرجانبداری کی اجازت دیتے ہیں، نہ بےقیمت ایمان کی۔ وہ یا تو انسان کو بدل دیتے ہیں، یا نیا بنا دیتے ہیں اور میں ان دونوں کاموں سے خوف زدہ ہوں۔ امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھ کر میں خوف زدہ ہوں۔ امریکہ سے نہیں حسینؑ سے خوف زدہ ہوں۔ مجھے خوف جنگ سے نہیں، مجھے خوف اس بات سے ہے کہ کہیں حسینؑ کا استغاثہ مجھے دوبارہ نہ سنائی دے جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں اعتراف کرتا ہوں کہ اس پیش قدمی کو سے خوف زدہ ہوں امریکا کی ہوتے ہیں دیتے ہیں مجھے خوف اور میں سے نہیں کہ اگر ہوا ہے کہ میں ہوں تو

پڑھیں:

ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کا اپ اسٹریم پیٹرولیم سیکٹر شاذ و نادر ہی عوام کی توجہ مبذول کرتا ہے جب تک کہ کسی بڑی دریافت کا اعلان نہ کیا جائے۔ تاہم، ماری انرجی لمیٹڈ (پہلے ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے نام سے جانا جاتا تھا) کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ جنرل پیٹرولیم کنسیشنز (DGPC) کے پاس جمع کرائے گئے آفیشل ریکارڈز کا جائزہ ایک دلچسپ کہانی کا انکشاف کرتا ہے: ایسا لگتا ہے کہ کرک بلاک میں ہالینی فیلڈ نے پہلے کے ترقیاتی منصوبوں میں کیے گئے قدامت پسند پیداواری مفروضوں کو مسلسل پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ہالینی کی دریافت 2011 میں بلاک 3271-1 (کرک) میں کی گئی تھی۔ تشخیصی کام کے بعد، ماری نے 2018 میں ہالینی ڈسکوری پر D&P لیز اور فیلڈ ڈویلپمنٹ پلان کے لیے درخواست جمع کرائی جس کے ساتھ تفصیلی فیلڈ ڈویلپمنٹ پلان، ریزروائرز ایویلیوایشن رپورٹ اور 2014 میں آئی پی آر انٹرنیشنل لمیٹڈ، یو ایس اے کے ذریعے آزاد ریزرو سرٹیفیکیشن رپورٹ کی گئی۔ 2016. ماری نے آپریٹر کے طور پر 60% کام کرنے کی دلچسپی رکھی، جبکہ MOL نے 40% حصہ لینے والی دلچسپی برقرار رکھی۔

لیز کی شرائط کے تحت، (رپورٹر کے پاس دستیاب دستاویز) تجدید میعاد ختم ہونے کے وقت تجارتی پیداوار کے تسلسل سے مشروط ہے۔ نتیجتاً، طویل مدتی ذخائر کی کارکردگی اور متوقع فیلڈ لائف اثاثے کے مستقبل کا جائزہ لینے میں اہم تحفظات ہیں۔
2014 میں آئی پی آر انٹرنیشنل کے ذریعہ کئے گئے آزاد ذخائر کی تشخیص میں پیداواری فیلڈ لائف کا تخمینہ تقریباً 2034 تک پھیلا ہوا تھا۔ اس مطالعہ میں ارضیاتی تشریح، ریزروائر انجینئرنگ کا تجزیہ، زوال وکر ماڈلنگ، مادی توازن کا مطالعہ، اور متحرک ذخائر کی نقل شامل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ، تشخیص نے فیلڈ ریکوری پر گیس لفٹ ٹیکنالوجی کے اثرات کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بحالی کی بہتر تکنیک مادی طور پر حتمی ذخائر کو بہتر بنا سکتی ہے اور پیداواری فیلڈ لائف کو بڑھا سکتی ہے۔
ماری کی طرف سے کیے گئے ذخائر کے بعد کے مطالعے نے اس نقطہ نظر کو مزید تقویت دی۔ کمپنی کی 2018 ریزروائر ایویلیوایشن رپورٹ نے مندرجہ ذیل ریزرو تخمینہ پیش کیے:

 

DCA Method Ultimate Recoverable Reserves Remaining Reserves

Aug 2018

 

Forecast

Categories Oil (MMstb) Gas (Bscf) Oil (MMstb) Gas (Bscf)
1P 4.12 4.89 1.42 2.12 2025
2P 4.81 5.92 2.11 3.15 2029
3P 6.81 8.89 4.11 6.12 2043

بعد ازاں ریگولیٹری انکشافات کے ذریعے دستیاب رپورٹ شدہ پیداواری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہالینی نے 2025-2026 کی مدت کے دوران تقریباً 0.7 MMSCFD کی پیداوار جاری رکھی۔ پیداوار کی یہ سطح 2018 کے ذخائر کی تشخیص میں بیان کردہ اعلی ریزرو منظرناموں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مطابقت رکھتی ہے بجائے اس کے کہ پہلے کی ترقی کی منصوبہ بندی کے معاملات میں زیادہ قدامت پسند مفروضوں کی عکاسی ہوتی ہے۔


ایک خاص طور پر قابل ذکر پیش رفت ستمبر 2025 میں ہوئی جب ماری انرجی نے ڈی جی پی سی کو تیل اور گیس کی پیداوار کی ایک طویل مدتی پیشن گوئی پیش کی۔ جمع کرانے کے مطابق، ہالینی سے پرعزم پیداوار 2044-45 تک جاری رہنے کا امکان تھا۔ یہ پروجیکشن زیادہ قدامت پسند ریزرو کیسز سے وابستہ ٹائم لائنز سے آگے ایک اہم توسیع کی نمائندگی کرتا ہے اور D&P لیز کی مستقبل کی تجدید میں ایک اہم غور و فکر بن سکتا ہے۔

اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو 2014 کی آزاد ریزرو سرٹیفیکیشن، 2018 کے ذخائر کی تشخیص، بعد میں پیداوار کی کارکردگی، اور 2025 کی طویل مدتی پیداوار کی پیشن گوئی اس فیلڈ کی ایک مستقل تصویر پیش کرتی ہے جس نے پہلے کی توقعات پر یا اس سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگرچہ ریزرو کے تخمینے فطری طور پر غیر یقینی صورتحال کے تابع ہیں اور مستقبل کے ذخائر کے رویے کی کبھی بھی مکمل یقین کے ساتھ پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ ہالینی کی پیداواری زندگی مادی طور پر اس سے زیادہ لمبی ہو سکتی ہے جس کا اندازہ انتہائی قدامت پسند ترقیاتی مفروضوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

ہالینی فیلڈ پیٹرولیم کی ترقی میں ایک وسیع سبق کی وضاحت کرتا ہے۔ ابتدائی ترقیاتی منصوبے اور ریزرو کیسز اکثر منصوبہ بندی اور ریگولیٹری مقاصد کے لیے قدامت پسند مفروضوں کو اپناتے ہیں۔ جیسا کہ پیداوار کی تاریخ جمع ہوتی ہے اور ذخائر کے رویے کو بہتر طور پر سمجھا جاتا ہے، بحالی کی بہتر حکمت عملی اور آپریشنل تجربہ اضافی قدر کو غیر مقفل کر سکتا ہے اور فیلڈ لائف کو اصل توقعات سے آگے بڑھا سکتا ہے۔

موجودہ ریگولیٹری ریکارڈ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہالینی 2040 کی دہائی تک پاکستان کی گھریلو توانائی کی فراہمی میں ایک بامعنی شراکت دار رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو کہ مسلسل آبی ذخائر کے انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، بحالی کی بہتر تکنیک، اور ایک اثاثہ کی زندگی بھر فیلڈ کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً از سر نو جائزہ لیتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار