خود کو انسانی حقوق کی وکیل قرار دینے والی ایمان زینب مزاری ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں، جہاں سیاسی اور ریاستی حلقوں کی جانب سے ان پر بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے متنازع گروہوں کی وقتاً فوقتاً حمایت کرنے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایمان مزاری کا اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ، سزا کے بعد تقاریر زیر بحث

ریاستی و سکیورٹی حلقوں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ریاست دشمن عناصر سے جوڑا جاتا رہا ہے، جبکہ ایمان مزاری مختلف مواقع پر اس تنظیم کے بیانیے کی حمایت کرتی نظر آئیں، جس سے ان کے ریاست مخالف رجحانات پر سوالات اٹھتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایمان مزاری کی تقاریر اور بیانات میں ریاستی اداروں، خصوصاً افواجِ پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی جاتی رہی ہے، جو بالواسطہ طور پر ان عناصر کے مؤقف کو تقویت دیتی ہے جو ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری نہ صرف جبری گمشدگیوں اور بدامنی کا ذمہ دار براہِ راست ریاستی اداروں کو ٹھہراتی رہی ہیں بلکہ وہ سول نافرمانی، احتجاجی تحریکوں اور ریاستی نظام کے بائیکاٹ جیسے اقدامات کی بھی حمایت کرتی رہی ہیں، جنہیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے گروہوں کی حمایت یا ان کے بیانیے کو انسانی حقوق کے نام پر آگے بڑھانا دراصل ریاست مخالف سوچ کو فروغ دینے کے مترادف ہے، جس سے معاشرے میں انتشار اور اداروں کے خلاف نفرت کو ہوا ملتی ہے۔

مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوری حق ضرور ہے، تاہم جب یہ اختلاف ریاست دشمن عناصر کے مؤقف سے ہم آہنگ ہو جائے تو اسے آزادیِ اظہار کے بجائے ریاستی مفادات کے خلاف سرگرمی تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: راجا ناصر عباس کی ایمان مزاری کے کیس میں مداخلت پر سوالات اٹھنے لگے

واضح رہے کہ ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر کو متنازع ٹوئٹس کیس میں حال ہی میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جس کے بعد ان کی سرگرمیوں، بیانات اور مبینہ ریاست مخالف روابط پر بحث میں مزید تیزی آ گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایمان مزاری بلوچ یکجہتی کمیٹی تنقید ریاست دشمنی ریاستی حلقے وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری بلوچ یکجہتی کمیٹی ریاست دشمنی ریاستی حلقے وی نیوز بلوچ یکجہتی کمیٹی ایمان مزاری کے خلاف

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف