بھارت میں نیپاہ وائرس کا پھیلاؤ: مختلف ممالک کے ایئرپورٹس پرالرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگال: بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک نے ایئرپورٹس پر کورونا وائرس کی طرز پر سخت اسکریننگ شروع کر دی ہے۔
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق تھائی لینڈ، نیپال اور تائیوان نے مغربی بنگال سے آنے والے مسافروں کی صحت کی نگرانی شروع کر دی ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔گیارہ جنوری کو مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے پانچ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں ریاست کے ایک نجی اسپتال کے طبی عملے کے ارکان شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد میں دو نرسز شامل ہیں جنہوں ایسے مریض کا علاج کیا تھا جس میں نیپا کی علامات موجود تھیں تاہم وہ تشخیص سے قبل ہی انتقال کر گیا تھا۔جس کے بعد متاثرہ مریضوں سے قریبی رابطے میں آنے والے 100 افراد کو بھی گھروں میں قرنطینہ کر دیا گیا اور ان کی کڑی نگرانی جاری ہے۔
تھائی لینڈ کی وزارتِ صحت نے کولکتہ سے آنے والے مسافروں کے لیے ملک کے بڑے ایئرپورٹس پر کورونا وائرس کی طرح سخت اسکریننگ شروع کر دی ہے۔ بھارتی ایئرلائن انڈیگو روزانہ براہِ راست پرواز کے ذریعے مسافروں کو کولکتہ سے فوکٹ ایئرپورٹ لاتی ہے جن کی اب سخت جانچ کی جا رہی ہے۔
نیپال نے بھی کھٹمنڈو کے تری بھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور بھارت کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں پر حفاظتی اقدامات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ تائیوان نے بھارت کی ریاست کیرالہ کے لیے ٹریول الرٹ برقرار رکھا ہے اور مسافروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پہلی بار یہ وائرس 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا اور اس کا پہلا کیس ملائیشیا کی ریاست پیراک کے ایک گاؤں ’کامپونگ سنگی نیپاہ‘ میں رپورٹ ہوا تھا، اسی گاؤں کے نام پر اس وائرس کا نام ’نیپاہ‘ رکھا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپاہ وائرس شاذ و نادر ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور زیادہ تر پھل خور چمگادڑوں کی آلودہ خوراک کے ذریعے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ دیہی علاقوں میں سردیوں کے موسم کے عام مشروب یعنی کچی کھجور کے رس کے ذریعے بھی اس وائرس کے پھیلاؤ کا خشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائرس کے
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔