ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارت میں پھیلنے والے خطرناک وائرس نے ایونٹ کا انعقاد خطرے میں ڈال دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بھارت میں پھیلنے والے خطرناک وائرس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرے میں ڈال دیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کو بھارت میں نئے نیپا وائرس کے پھیلنے کے باعث خطرات کا سامنا ہے، جس نے اس میگا ایونٹ کے انعقاد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارت کے مغربی بنگال میں دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت پانچ افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
حکام نے کم از کم 100 افراد کو قرنطینہ میں بھیج دیا ہے اور حفاظتی تدابیر مزید سخت کردی ہیں۔
یہ خطرناک وائرس 7 فروری کو شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد سے چند ہفتے پہلے ہی پھیلنا شروع ہوا ہے۔
اگر وائرس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیںٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کے بائیکاٹ کا امکان
بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ نہ کھیلنے پر کتنا مالی نقصان ہوگا، ہوشربا انکشاف
نیپا وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک مہلک زہر ہے، جس کی شرح اموات 75 فیصد تک ہو سکتی ہے جبکہ دنیا بھر میں فی الحال اس کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ورلڈکپ پہلے ہی تنازعہ کا شکار ہوچکا ہے جب بنگلادیش نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بھارت میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔
آئی سی سی نے بنگلادیش کے موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔
پی سی بی نے بھی بنگلادیش کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق حکومت پاکستان کی منظوری سے مشروط ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیم کا بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا بھی امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ بھارت میں
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔