بھارت میں پھیلنے والے خطرناک وائرس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرے میں ڈال دیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کو بھارت میں نئے نیپا وائرس کے پھیلنے کے باعث خطرات کا سامنا ہے، جس نے اس میگا ایونٹ کے انعقاد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بھارت کے مغربی بنگال میں دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت پانچ افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

حکام نے کم از کم 100 افراد کو قرنطینہ میں بھیج دیا ہے اور حفاظتی تدابیر مزید سخت کردی ہیں۔

یہ خطرناک وائرس 7 فروری کو شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد سے چند ہفتے پہلے ہی پھیلنا شروع ہوا ہے۔

اگر وائرس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کے بائیکاٹ کا امکان

بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ نہ کھیلنے پر کتنا مالی نقصان ہوگا، ہوشربا انکشاف

نیپا وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک مہلک زہر ہے، جس کی شرح اموات 75 فیصد تک ہو سکتی ہے جبکہ دنیا بھر میں فی الحال اس کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈکپ پہلے ہی تنازعہ کا شکار ہوچکا ہے جب بنگلادیش نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بھارت میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔

آئی سی سی نے بنگلادیش کے موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔

پی سی بی نے بھی بنگلادیش کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق حکومت پاکستان کی منظوری سے مشروط ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیم کا بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا بھی امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ بھارت میں

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار