ٹی20 ورلڈکپ: حارث رؤف اور رضوان باہر، بابر اعظم کو کیوں شامل کیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ٹی20 ورلڈکپ 2026 کے لیے فاسٹ باؤلر حارث رؤف اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو 15 رکنی قومی اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کی پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ نے وجہ بتا دی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے 15 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان اتوار کو کردیا۔ یہ ایونٹ 7 فروری سے بھارت میں شروع ہوگا، تاہم پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔
اسکواڈ کے انتخاب میں سلیکشن کمیٹی نے اہم اور سینئر کھلاڑیوں حارث رؤف اور محمد رضوان کو نظر انداز کیا، جبکہ بابر اعظم کو ٹیم میں شامل رکھا گیا۔ ماضی میں آئی سی سی ایونٹس میں بابر اعظم، محمد رضوان اور حارث رؤف تینوں نے پاکستان کے لیے نمایاں کردار ادا کیے، تاہم اس بار کرکٹ بورڈ نے صرف بابر اعظم پر اعتماد کا اظہار کیا۔
پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے اسکواڈ کے انتخاب اور بعض کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنے کی وجوہات بیان کیں۔ بابر اعظم کے کردار پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹیم انہیں ورلڈ کپ میں اوپننگ کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہی۔ ان کے مطابق بابر اعظم نے پاکستان کے لیے اوپننگ نہیں کی کیونکہ پاور پلے میں جارحانہ کھیلنے کی صلاحیت نہایت اہم ہے۔
ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کے پاس مڈل اوورز میں اننگز کو کنٹرول کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مخصوص کھلاڑیوں کو اسٹرائیک دے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر کم ہدف کا تعاقب کرنا ہو تو بابر اعظم اس صورتحال کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ مائیک ہیسن کے مطابق آسٹریلیا کے حالات سری لنکا میں متوقع کنڈیشنز سے خاصے مختلف ہیں، اور ان تمام عوامل کو ٹیم کے انتخاب میں مدنظر رکھا گیا ہے۔
اسکواڈ میں وکٹ کیپرز کے طور پر خواجہ محمد نافع اور عثمان خان کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ محمد رضوان بدستور اس فارمیٹ میں ٹیم سے باہر ہیں۔ عثمان خان کے حوالے سے مائیک ہیسن نے کہا کہ واپسی کے بعد وہ غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کے کھیل میں تجربہ جھلکتا ہے اور ان کی وکٹ کیپنگ توقعات سے بھی بہتر رہی ہے۔ ان کے مطابق سری لنکا میں عثمان خان کی وکٹ کیپنگ کا معیار بہت اعلیٰ تھا۔
ہیڈ کوچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں وکٹ کیپر کا جو کردار طے کیا گیا ہے وہ مڈل آرڈر میں پانچ یا چھ نمبر پر بیٹنگ کرنے والا کھلاڑی ہے۔ ان کے بقول محمد رضوان ٹاپ آرڈر بیٹر ہیں، اس لیے دونوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، اور اس مخصوص کردار میں وکٹ کیپر کے لیے کوئی جگہ موجود نہیں تھی۔
مائیک ہیسن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حارث رؤف کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے زیر غور لایا گیا تھا، تاہم انہیں حتمی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔
قومی ہیڈ کوچ کا مزید کہنا تھا کہ حارث رؤف، وسیم جونیئر اور احمد دانیال پر غور کیا گیا، لیکن منتخب کردہ فاسٹ بولنگ اٹیک اس لیے ترجیح پایا کیونکہ شاہین شاہ آفریدی، سلمان اور نسیم شاہ تینوں کھیل کے تمام تین مراحل میں بولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محمد رضوان مائیک ہیسن ہیڈ کوچ کرنے کی کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔