این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا پیشگی الرٹ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد :نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے مختلف پہاڑی علاقوں میں آئندہ دو دنوں کے دوران ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کے پیشگی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی اضلاع میں بارش اور برفباری کے نتیجے میں زمین کھسکنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے دیر، سوات، کالام، کاغان، چترال، کوہستان، شانگلہ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے ساتھ مری، گلیات، استور، سکردو، گلگت، ہنزہ، غزر، شگر، باغ اور مظفرآباد میں لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ظاہر کیا ہے، بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، زیارت، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، قلات، مستونگ، آواران، پنجگور اور خضدار میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے خاص طور پر قراقرم ہائی وے اور بابوسر روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ کاغان، ناران رابطہ سڑک پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کے امکان کی وجہ سے ٹریفک میں رکاوٹ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کی ہدایت ہے کہ شہری برفباری اور بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، سڑکوں کی بندش کی صورت میں ملبہ ہٹانے والی مشینری اور ریسپانس ٹیمیں الرٹ رہیں گی تاکہ ٹریفک کی روانی جلد بحال کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل لینڈ سلائیڈنگ ڈی ایم اے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔