ٹنڈوجام ،فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں اجتماع کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)دعوتِ اسلامی ٹنڈوجام کے زیر اہتمام جامع مسجد نورانی مسجد میں فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں اجتماع منعقد ہواجس میں دعوتِ اسلامی کے شبعہ مدرسۃُ المدینہ، مدرسۃُ المدینہ شارٹ ٹائم،مدرسۃُ المدینہ بالغّان سیفارغ التحصیل90حافظ قُرآن اور ناظرہ قُرآن مکمل کرنے والے طلبہ کرام کو اسناد دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق دعوت اسلامی کے زیر اہتمام نورانی مسجد میں چلنے والے مدرسے میں مدرسۃ المدنیہ بالغان کی تقریب منعقد ہوئی جس میں 90 حافظ قرآن اور ناظرہ پڑھنے والوں میں اسناد تقسیم کیں۔ اِس موقع پر دعوت اسلامی حیدرآباد کے مُفتی مُحمد نوید عطّاری المدّنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پڑھنا اور اس کا سیکھنا ہر مسلمان پر فرض قرآن روز قیامت یا تو ہمارے لیے سفارش کرنے والا بنے گا یا ہمارے خلاف اللہ تعالی کو یہ شکایت کرے گا کہ اس نے دنیا کے اندر اپنی دنیا بنانے میں گزار دی لیکن مجھ پر توجہ نہیں دی اور قرآن نہ پڑھنے والے اس دن پریشانی اور اللہ کے غضب کا شکار ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن کو پڑھنے کے لیے اور سیکھنے کے لیے کوئی عمر کی قید نہیں اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے انھوں نے اس موقع پر بڑی عمر کے شاگروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا یہ طلباء سب کے لیے مثال ہیں ان کو دیکھیں اور جو لوگ ابھی تک قرآن نہیں پڑھ سکیں ہیں وہ وقت کو ضائع نہ کریں اور اس مدرسے میں داخلہ لے کر قرآن پڑھنا شروع کریں تاکہ روز آخرت میں قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے جو اللہ تعالی کے سامنے شرمندگی ہو گی اس سے بچ سکیں اور اللہ تعالی کی رضا حاصل کر سکیں اِس موقع پر سٹی نگران حیدرآباد سیّد مُحمدجمیل عطّاری ، مولانا مُحمد یوسف نقشبندی،خلیفہ پروفیسرحافظ نزیر احمد نقشبندی ،علامہ مُحمدخرم عطُاری،ڈاکٹر اکرم اعوان ، علامہ حسنین سیرانی نقشبندی،حافظ عطّا اللہ نقشبندی ، حافظ فضل الرحمٰن نقشبندی،ٹاؤن نگران مُحمد عارف عطّاری قاری قاسم عطاری قاری علیم عطاری واصف عطاری، حافظ عبدالوحید عطاری سمیت دیگر موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔