کھوکھرا پار اور لانڈھی میں آتشزدگی کے واقعات ، بچے جھلس گئے، لاکھوں کا سامان خاکستر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپوٹر) ملیر کے علاقے کھوکھراپار میں واقع ایک نجی اسکول میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کے وقت اسکول میں طلبہ موجود تھے تاہم فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی کے باعث ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت اسکول کی بالائی منزل پر بچوں کی کلاسز جاری تھیں، جنہیں ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد کی مدد سے بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ریسکیو ذرائع نے بتایا کہاآتشزدگی کے دوران دو بچے جھلس کر زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پرسول اسپتال کراچی کے برنس وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق ایک بچے کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جب کہ دوسرے زخمی بچے کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اورکولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق آگ نے رہائشی حصے کے سامان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔پولیس کے مطابق مذکورہ عمارت گھر کے طور پر رجسٹرڈ تھی جسے اسکول میں تبدیل کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عمارت کی زیریں منزل پر 8 سے 10 افراد رہائش پذیر تھے جبکہ بالائی منزل پر اسکول چلایا جا رہا تھا، جو فائر سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔دوسری جانب ریسکیو حکام نے آگ لگنے کی وجہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زیریں منزل کے رہائشی کمرے میں رکھا گیا گیس سلنڈر آگ لگنے کا سبب بنا۔ سلنڈر میں آگ بھڑکنے کے بعد شعلے کمرے میں موجود دیگر سامان تک پھیل گئے، جس کے نتیجے میں آگ نے شدت اختیار کر لی۔ریسکیو اہلکاروں کے مطابق اہلِ علاقہ نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بچوں اور گھر کے افراد کو بحفاظت باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔واقعے کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں نے عمارت میں اسکول کے قیام، اجازت ناموں اور حفاظتی انتظامات کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ علاوہ ازیں صنعتی علاقے لانڈھی شیرپاؤ کالونی میں واقع ایک پرانے گودام میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں گودام میں موجود سامان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔ خوش قسمتی سے واقعے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق لانڈھی شیرپاؤ کالونی میں مسجد اقصیٰ کے ساتھ واقع پرانے گودام میں آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر روانہ کی گئیں۔ آگ کی شدت کے باعث علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے، جس سے اطراف میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ابتدائی معلومات کے مطابق گودام میں بڑی مقدار میں فوم اور کاغذ ذخیرہ تھا، جو آگ لگنے کے بعد تیزی سے شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ فائر بریگیڈ کے عملے نے مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا، جس کے بعد دوبارہ آگ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر کولنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ قائدآباد، ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ پولیس حکام کے مطابق فائر بریگیڈ کی جانب سے آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل تاحال جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ نقصانات کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متاثر رہی، تاہم صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ کے مطابق ا گودام میں ا گ لگنے گیا ہے کے بعد کا عمل
پڑھیں:
کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
کراچی:شہر قائد میں فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا پولیس نے مبینہ مقابلے کے بعد زخمی سمیت 2 ڈاکوؤں کو گرفتار کر کے اسلحہ ، شہری سے اسلحہ کے زور پر چھینی گئی موٹرسائیکل اور دیگر سامان برآمد کر لیا ۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا پولیس نے راشد منہاس روڈ سہراب گوٹھ پل کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد زخمی سمیت 2 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔
زخمی حالت میں گرفتار ڈاکو کو طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان ایس یس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل عمران خان کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار ڈاکو کی شناخت شعیب ولد احسان کے نام سے کی گئی جبکہ دوسرے گرفتار ملزم نے اپنا نام رضی الدین ولد سمیع الدین بتایا۔
گرفتار ملزمان سے ایک پستول بمعہ گولیاں ، موبائل فون ، کیش رقم اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی۔
ملزمان سے ملنے والی موٹرسائیکل 21 جولائی 2026 کو شاہراہ پاکستان سے شہری سے اسلحہ کے زور پر چھینی گئی تھی ۔