مدرسہ مظہرالعلوم حمادیہ کے 162 طلبہ کی دستار بندی و ردا پوشی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر ) مدرسہ مظہرالعلوم حمادیہ اتحاد ٹاؤن‘ بلدیہ ٹاؤن کراچی میں تکمیلِ قرآنِ کریم و تقسیمِ انعامات کی سالانہ روح پرور تقریب منعقد ہوئی جس میں 162 طلبہ کی دستاربندی اور طالبات کی ردا پوشی کی گئی۔ تقریب کی صدارت مدرسہ کے مدیرِ اعلیٰ قاری مظہرالدین نے کی جبکہ ناظمِ تعلیمات مولانا فخرالدین رازی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ادارے کی دینی و تعلیمی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب میں جامع مسجد عالمگیر بہادرآباد کے خطیب استاذ الحدیث مفتی سعید احمد‘ جامعہ معہدالخلیل الاسلامی کے استاذ الحدیث مولانا محمد عاصم رحمانی‘ شیخ الحدیث مولانا نورالحق‘ مولانا عبدالقادر کھوسو‘ مفتی امتیاز احمد عباسی‘ جامعہ معہدالخلیل الاسلامی بہادر آباد کے ناظمِ تعلیمات مولانا وسیم خلیلی‘ مولانا عظیم معین‘ مولانا طلحہ عبدالسلام‘ پرویز احمد دودا‘ شیخ نوید‘ منیر احمد شاہ‘ مفتی محمود اکیڈمی کراچی کے روحِ رواں ڈاکٹر قطب الدین عابد‘ مفتی شاہ فیصل برکی‘ مولانا عمر صادق‘ یوسی 2 بلدیہ ٹاؤن کے چیئرمین عارف تنولی‘ اظہر انگاریہ‘ مولانا طیب شکیل‘ مولانا اسد اسلم‘ مولانا فضیل نعیم سمیت ممتاز علما، معززین اور علاقہ عمائدین نے شرکت کی۔ علما کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ مدرسہ مظہرالعلوم حمادیہ اتحاد ٹاؤن جیسے دینی ادارے معاشرے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ایک سال میں 162 سے زائد طلبہ و طالبات کا قرآنِ کریم کی تکمیل ایک منفرد اعزاز ہے۔ یہ ننھے حفاظ کرام ملک و قوم کا روشن مستقبل ہیں جن کی معیاری تعلیم و تربیت ہی مملکتِ خداداد پاکستان کی تعمیر و ترقی کی ضمانت ہے۔ اس موقع پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو انعامات دیے گئے جبکہ مدرسہ و اسکول امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو اسناد، شیلڈز اور دیگر انعامات سے نوازا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔